کسر صلیب

by Other Authors

Page 186 of 443

کسر صلیب — Page 186

مشکلات برداشت کرتے رہے اور دُکھ اُٹھاتے رہے اور عیسائی عقیدہ کے مطابق ان کا انجام یہ ہوا کہ لوگوں نے پکڑ کر ان کو صلیب پر لٹکا کر مار دیا۔انجیل کی متعدد آیات سے بھی مسیح علیہ السلام کے قادر مطلق ہونے کی نفی ہوتی ہے مثلاً حضرت سیح علیہ السلام کا اپنا اقرا یہ ہے کہ۔میں اپنے آپ سے کچھ نہیں کر سکتا۔جیسا سنتا ہوں عدالت کرتا ہوں اور میری عدالت راست ہے کیونکہ میں اپنی مرضی نہیں بلکہ اپنے بھیجنے والے کی مرضی چاہتا ہوں۔نے پھر ان کے بارہ میں لکھا ہے :- اور وہ کوئی معجزہ وہاں نہ دکھا سکا سوا اس کے کہ تھوڑے سے بیماروں پر ہاتھ رکھ کرا نہیں اچھا کر دیا ہے نہ وہاں وہ کمزوری کے بعد سے صلیب دیا گیا لیکن خدا کی قدرت کے سبد سے زندہ ہے۔سے N ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام ہرگز قادر مطلق نہ تھے۔۲۔پھر خدا کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ خود کسی اور سے دُعا نہیں مانگا کرتا بلکہ دوسرے لوگ اکسی محتاج ہوتے ہیں اور اسے دعائیں مانگتے ہیں۔خدا کی شان یہ ہے کہ وہ اوروں کی دعائیں قبول کرتا ہے۔لکھا ہے :۔کر " خداوند شریروں سے دُور ہے پر وہ صادقوں کی دُعا سنتا ہے " ست لیکن حضرت مسیح علیہ السلام میں یہ صفت موجود نہ تھی۔نیک لوگوں کی دعائیں قبول کرنے کا کیا سوال وہ تو خود دعائیں کرتے تھے اور قبولیت کے خواستگار ہوتے تھے۔لکھا ہے :- " وہ جنگلوں میں الگ جا کر دعا مانگا کرتا تھا اے تے کہ اس نے اپنی بشریت کسے دنوں میں زور زور سے پکار کو اور آنسو بہا بہا کہ اس سے دعائیں اور التجائیں کیں جو اس کو موت سے بچا سکتا تھا۔اور خدا ترسی کے سبب۔اس کی سنی گئی ہے پھر وہ سخت پریشانی میں مبتلا ہو کہ اور بھی دلسوزی سے دعا مانگنے لگا اور اس کا پسینہ گویا خون کی بڑی بڑی بوندیں ہو کہ زمین پر ٹپکتا تھا یا شہ : یوحنا ب : - -:- مرقس : ته -: - کرنتھیوں ہا: ہے :- امثال : : لو قاعات : :- عبرانیوں % :: لو قام " :