کسر صلیب — Page 421
۴۲۱ اس مرہم سے صلیبی موت کی تردید کا استدلال اس طور سے کیا ہے کہ کتب طب میں اس مرہم کا بڑی کثرت سے تذکرہ ہے۔قریبا ہر قوم کے اطباء نے اس کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ یہ مرہم حضرت عیسی علیہ السلام کے زخموں کے لئے بنائی گئی تھی۔دوسری طرف حضرت عیسی علیہ السلام کے حالات زندگی دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو ساری زندگی میں صرف صلیب کے حادثہ کے وقت ہی زخم آئے تھے۔پس ثابت ہوا کہ یہ مرہم صلیب کیسے زخموں کے لئے تھی۔اور یہ تو ظاہر ہی ہے کہ مرہم تب ہی بنائی گئی ہوگی جب حضرت مسیح مجروح اور زخمی ہوئے ہوں۔اگر وہ صلیب پر مر گئے ہوتے تو اس مرہم کا کوئی وجود نہ ہوتا کیونکہ مردوں کے زخموں کا علاج نہیں کیا جاتا۔پس ہر پہلو سے مرہم عیسی صلیبی موت کی تردید کا ایک زیر دست ثبوت ہے۔اس ثبوت کی اہمیت کے بارہ میں حضور فرماتے ہیں :۔** H مرہم عیسی حق کے طالبوں کے لئے ایک عظیم الشان شہادت ہے اگر اس شہادت کو قبول نہ کیا جائے تو پھر دنیا کے تمام تاریخی ثبوت اعتبار سے گر جاویں گے یہ ہے نیز فرمایا : - مریم معینی کی علمی گواہی ان عقائد کو رد کرتی ہے اور تمام عمارت کفارہ و شلیت وغیرہ کی یک دفعہ کہ جاتی ہے کہ پھر اسی سلسلہ میں آپ فرماتے ہیں :- یہ مرہم عیسی حضرت عیسی کے معجزات میں سے ایک معجزہ ہے " سے مرسم عیسی سے صلیبی موت کا رد کس طرح ہوتا ہے ؟ یہ استدلال حضور نے بڑی وضاحت کے ساتھہ مختلف انداز میں فرمایا ہے۔حضرت مسیح پاک علیہ السلام کے حوالہ جات درج ذیل ہیں :- میری یہ تحقیق عارضی اور سرسری نہیں بلکہ نہایت مکمل ہے چنانچہ ابدا ور اس تحقیق کا اس مرہم سے ہے جو مرہم عیسی کہلاتی ہے اور مرہم حوار بین بھی اس کو کہتے ہیں اور طب کی ہزار کتب سے زیادہ میں اس کا ذکر ہے اور مجوسی اور یہودی اور عیسائی اور سلمان طبیبوں نے اپنی اپنی کتابوں میں اس کا ذکر کیا ہے چونکہ میں نے بہت سا حصہ اپنی شر کا فن طبابت کے پڑھنے میں بسر کیا ہے اور ایک بڑا ذخیرہ کتابوں کا بھی مجھ کو ملا ہے اس لئے چشم دید طور یہ یہ وہیل مجھ کو ملی ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام خدا تعالی کے فضل سے اور اپنی دردمندانہ دعاؤں ا: مسیح ہندوستان میں صالح - جلد 1 : سه : - راز حقیقت حاشیه مث - جلد ۱۴ به ايام الصلح ۱۳۰ - جلد ۱۴: :