کسر صلیب — Page 415
دام کے نواح کی طرف سفر کرنا نہایت ضروری تھا کیونکہ بنی اسرائیل کے دس فرقے جن کا نام انہیں میں اسرائیل کی گمشدہ بھیڑیں رکھا گیا ہے ان ملکوں میں آگئے تھے جن کے آنے سے کسی مؤرخ کو انکار نہیں ہے اس لئے ضروری تھا کہ حضرت مسیح علیہ السلام اس ملک کی طرف سفر کرتے اور ان گش رو بھیڑوں کا پتہ لگا کہ خدا تعالیٰ کا پیغام ان کو پہنچاتے اور جب تک وہ ایسا نہ کرتے تب تک ان کی رسالت کی غرض بے نتیجہ اور نامکمل تھی کیونکہ جس حالت میں وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ان گمشدہ بھیڑوں کے پیچھے جاتے اور ان کو تلاش کرتے اور ان کو طریق نجات بتلاتے یونہی دنیا سے کوچ کر جانا ایسا تھا کہ جیسا کہ ایک شخص ایک بادشاہ کی طرف سے مامور ہو گہ وہ فلاں پیانانی قوم میں جا کر ایک کنواں کھود سے اور اس کند سے سے ان کو پانی پلا دیے۔لیکن شخص کسی دوسرے مقام میں تین چار برس رہ کر واپس چلا جائے اور اس قوم کی تلاش میں ایک قدم بھی نہ اٹھائے تو کیا اس نے بادشاہ کے حکم کے موافق تکمیل کی؟ ہرگز نہیں بلکہ اس نے محض اپنی آرام طلبی کی وجہ سے اس قوم کی کچھ پرواہ نہ کی یہ لے اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت میں علیہ السلام کے کشمیر بھرت کر کے آنے کے ثبوت بیان فرمائے ہیں۔حضور علیہ اسلام نے اس بارہ میں تحقیق کا پورا حق ادا کر دیا ہے۔آپ نے ہجرت مسیح کے ثبوت کے لئے قرآن مجید، احادیث نبویہ کے علاوہ مسلمانوں کی قدیم تاریخی کتب کشمیر کی پرانی تایخی کتب ، بدھ مت کی کتب اور متعدد اسلامی کتر کے حوالے درج فرمائے ہیں۔انگریز مصنفین کی کتب کے حوالہ سے ہجرت کشمیر ثابت فرمائی ہے۔نیز کشمیر، میسوع اور بلوز آسف کے الفاظ کی تراکیب اور معانی سے استدلال کرتے ہوئے ہجرت کشمیر کا ثبوت دیا ہے۔اس تحقیق کے ضمن میں حضور نے اہل کشمیر اور افغان قبائل کے نبی اسرائیل ہونے کے ان گفت ثبوت درج فرمائے ہیں۔الغرض یہ ایک بہت وسیع اور طویل تحقیق ہے جو حضور نے اپنی کتب میں ہندوستان میں اور ایام الصلح میں بیان فرمائی ہے۔اس ساری تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا کشمیر، ہجرت کر کے آنا ایک قطعی اور یقینی امر ہے جب قینی امر ہے جس پر بکثرت دلائل موجود ہے۔اس جگہ سب دلائل کی تفصیل درج نہیں ہو سکتی تاہم اس تحقیق کے سلسلہ میں ہیں۔حضور کے چند حوالہ جات درج کرنے پر اکتفا کرتا ہوں۔حضور نے فرمایا :- یہود اپنی حماقت سے یہی سمجھتے رہے کہ مسیح صلیب پر مر گیا۔حالانکہ حضرت مسیح خداتعالی کاحکم یا کہ جیسا کہ کنزالعمال کی حدیث میں ہے اس ملک سے نکل گئے اور وہ تاریخی : مسیح ہندوستان میں ص۹۲ - جلد 6 1 :