کسر صلیب

by Other Authors

Page 414 of 443

کسر صلیب — Page 414

(A) مانم کی۔حالانکہ اہل لغت بھی مسیح کے لفظ کی ایک وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ لفظ صبح سے نکلا ہے اور مسیح سیاحت کو کہتے ہیں " لاہ و یہ بھی آثار میں لکھا ہے کہ مسیح ابن مریم نبی ستیاح تھے بلکہ رہی ایک نبی تھاجس نے دنیا کی سیاحت کی لیکن اگر یہ عقیدہ تسلیم کیا جائے کہ حضرت عیسی علیہ السلام صلیب کے واقعہ پر جو بالاتفاق علماء نصاری و بیهود واہل اسلام ان کی تینتیس برس کی عمرمی وقوع میں آیا تھا وہ آسمان کی طرف اُٹھائے گئے تھے تو وہ کونسا نسا نہ ہو گا جس میں انہوں نے سیاحت کی تھی ہو سکے ان سب حوالوں سے علاوہ اور باتوں کے جس بات کا استدلال حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کا نام مسیح اور سیاح رکھا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ انہوں نے سیاحت کی ہے اور یہ اسی صورت میں ممکن ہو سکتی ہے کہ وہ صلیبی موت سے زندہ بچ گئے ہوں نیز مسیح کا لفظ ہجرت کرنے کا بھی ایک ثبوت ہے جو میلیسی موت سے بچنے کی ایک زیر دست دلیل ہے۔اس کے بعد حضور اپنی اس تحقیق کو اس طرح آگے بڑھاتے ہیں کہ حضرت مسیح کا کشمیر کی طرف ہجرت کرنا عقلاً بہت ضروری تھا کیونکہ بنی اسرائیل کے دس قبائل وہاں رہائش پذیر تھے اور ان تک پیغام حق پہنچائے بغیر دنیا سے کوچ کرنا ان کی شان اور مشن کے خلاف تھا۔پس ضروری تھا کہ وہ ہجرت کرتے اور کشمیر کی طرف آتے تا ان کی بعثت کا مقصد پورا ہو جاتا حضرت مسیح موعود علیہ السلام، ہجرت کی اس غرض کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :- ” حضرت عیسی علیہ السلام اس ملک میں کیوں تشریف لائے اس کا سبب ظاہر ہے اور وہ یہ ہے کہ جبکہ ملک شام کے یہودیوں نے آپ کی تبلیغ کو قبول نہ کیا اور آپ کو صلیب پر قتل کرنا چاہا تو خدا تعالیٰ نے اپنے وعدے کے موافق اور نیز دنیا کو قبول کر کے حضرت مسیح کو صلیب سے نجات دے دی اور جیسا کہ انجیل میں لکھا ہے حضرت مسیح کے دل میں تھا کہ ان یہودیوں کو بھی خدا تعالٰی کا پیغام پہنچا دیں کہ جو بخت النصر کی غارت گری کے زمانہ میں ہندوستان کے ملکوں میں آگئے تھے۔سو اسی غرض کی تکمیل کے لئے وہ اس ملک میں تشریف لائے۔سے نیز فرمایا : واضح ہو کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو ئی کے فرض رسالت کی مد سے ملک پنجاب اور اس۔را به حقیقت حاشیہ ص - جلد ۱۴ سے : ایام الصلح جلد ۱۴ به 14-16 جلد ۱۴ بید