کسر صلیب

by Other Authors

Page 386 of 443

کسر صلیب — Page 386

PAY پھر مُرا در خود لکھنے کا سوال ہے۔اس کے بارہ میں اسی کتاب میں لکھا ہے کہ :۔مگر فقد دیمیں بھی اظہار محبت و عقیدت میں پیچھے نہ رہا۔وہ مر اور لوبان کا مرکب لایا جس کا وزن قریبا پچاس سیر تھا۔یہ مقدار بہت ہی زیادہ معلوم ہوتی ہے مگر اس زمانہ میں مصالحوں کی ایسی ہی بڑی بڑی مقداریں استعمال کرنے کا رواج تھا " اے پھر ایک اور حوالہ اس ضمن میں یہ ہے کہ : آرمتیہ کا یوسف جو سنہررم (بڑی عدالت کا نمبر ہے پلا طوس کے پاس جا کہ لاش مانگنا ہے اور نکہ ہمیں مر ا ور عود لاتا اور انہیں اس کتانی کپڑے میں دھرتا ہے جو لاش اور کے ارد گرد لیٹا ہوا ہے" سے _ اگر یہ سوال ہو کہ یوسف اور نقود نہیں کو اس سارے واقعہ کی اطلاع کیسے ہو گئی کہ وہ اتنی جلدی سب کچھ سے کر آگئے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یوسف اور نقود میں دونوں خفیہ طور پر سیج کے شاگرد تھے اور اس عدالت کے نمبر تھے دینی مسیح کی صلیب کا فیصلہ کیا تھا لکھا ہے :- یوسف ایک مشیر تھا یعض کا خیال ہے کہ وہ آرمنیا کی کونسل کا مشیر تھا " سے پھر اسی کتاب میں مزید لکھا ہے :- ا یوسف کے نمونہ سے نقود میں کو بھی اپنی وفاداری دکھلانے کی جرأت ہوئی۔نفود میں بھی وہی عہدہ رکھتا تھا جو یوسف کا تھا کیونکہ وہ بھی صدر مجلس کا نمبر تھا اور وہ بھی خفیہ طور پر سیخ کا شاگرد تھا ہے۔<+ معلوم ہوتا ہے کہ انکو ساری سکیم کا پورا علم تھا جو پہلا طوس نے تیار کی تھی۔اسی وجہ سے وہ حادثہ صلیب۔کے فورا بعد اتنی بڑی مقدار میں مر اور لوبان لیکر آگئے۔اگر واقعات کی سب اکٹڑیاں ملائی جائیں تو حقیقت کو پا لینا کچھ مشکل نہیں رہتا۔عیسائی حضرات بھی عجیب عذر تلاش کرتے ہیں۔جب صلیبی موت کا کوئی ثبوت بھی نہیں ملتا اور لوبان وغیرہ کے ملنے کی دلیل سے انکار کی گنجائش نہیں رہتی تو ایک عجیب عذر بیان کرتے ہیں۔پادری طالب الدین سکھتے ہیں : الگرہ یہ بھی فرض کر لیا جائے کہ جب وہ صلیب پر سے اتنا برا گیا اس وقت زندہ تھا۔پیر رہ لے :۔یسوع مسیح کی گرفتاری اور موت ما سه : - تواریخ بائیبل ۵۲۲۰ : و الضان :