کسر صلیب — Page 385
۳۸۵ اس سارے عقیدہ کو مشتبہ اور مشکوک بنا دیتا ہے اور یہ قیاس کرنے کا ایک بھاری قرینہ ہے کہ واقعی بنا حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر فوت نہیں ہوئے۔ستر خوین دلیل حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خدا تعالیٰ کی طرف سے علم پا کر صبیہ کے اصل ، اقعات کے بارہ میں جو تفصیل بیان فرمائی ہے اسے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو جب صلیب پر لٹکا یا گیا تو وہ اسی صدمہ سے بے ہوش ہو گئے۔اسی بے ہوشی کی حالت میں ان کو اتانہ لیا گیا اور سوچی بھی ہوئی سکیم کے مطابق یہ کہ دیا گیا کہ گویا وہ مرگئے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حوالہ جات اس ضمن میں پہلے بھی درج ہو چکتے ہیں۔ایک جگہ حضور فرماتے ہیں :- خداتعالی نے ہم کو سمجھادیا ہے اور ایک بہت بڑا ذخیرہ دلائل وبراہین کا دیا ہے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ ہر گز ہرگز صلیب پر نہیں مرے۔صلیب پر سے زندہ اتر آئے یخشی کی حالت بجائے خود موت ہوتی ہے۔دیکھوں کہ کی حالت میں نہ نبض رہتی ہے نہ دل کا مقام حرکت کرتا ہے بالکل مردہ ہی ہوتا ہے مگر پھر وہ زندہ ہو جاتا ہے " له صلیبی موت کی تردید میں سترہویں دلیل یہ ہے کہ اگر صلیب ہے، اتارے جانے کے وقت حضرت مسیح علیه السلام فوت ہو چکے ہوتے تو ان کے جسم پر بطور علاج مرا در خود نہ ملا جاتا کیونکہ ادویہ کا استعمال تو مریضوں کے لئے ہوتا ہے نہ کہ مردوں کے لئے۔پس حضرت مسیح علیہ السلام کے لئے حواریوں کا مر اور عود لانا اور سکنا ان کے زندہ ہونے کی دلیل ہے صحیح بات یہی ہے کہ وہ اس وقت بے ہوش تھے جن کو غلطی سے مردہ سمجھ لیا گیا۔حقیقت میں واقف حواری جانتے تھے کہ وہ سے ہوش ہیں اسی وجہ سے وہ علاج میں مصروف ہو گئے۔جہاں تک اس امر کا تعلق ہے کہ کیا واقعی حضرت مسیح بے ہوش ہو گئے تھے مرے نہیں تھے عیسائیوں کو بھی اس تحقیق سے اتفاق نظر آتا ہے کیونکہ وہ خلیہ کے حادثہ کو لیے ہوش کر دینے والا ایک صدمہ قرارہ دیتے ہیں۔ڈاکٹر جیمس سٹا کہ لکھتے ہیں : جو نہی یسوع کو اس بے ہوش کر دینے والے صدمے سے جو اس کے ہاتھوں اور پاؤں میں میخیں ٹھوکنے سے اسے ہوا تھا کچھ افاقہ ہوا تو اسکیسی پہلے الفاظ ایک دعا کی صورت میں تھے لے : ملفوظات جلد دوم من : : یسوع مسیح کی گرفتاری اور موت ملا ہے