کسر صلیب

by Other Authors

Page 360 of 443

کسر صلیب — Page 360

اس میں تمہاری تباہی ہے۔اب ظاہر ہے کہ اگر حقیقت میں عیسی علیہ السّلام صلیب دئیے جاتے یعنی صلیبی موت سے سر جاتے تو ضرور تھاکہ جو فرشتہ نے پیلاطوس کی بیوی کو کہا تھاوہ وعید ہو کر ہوتا جانی فکر تاریخ سے ظاہر ہے کہ پیلاطوس پر کوئی تباہی نہیں آئی ہے اے (۵) اگر مرتا (یعنی مسیح صلیب پر مرتا۔ناقل ) تو پیلاطوس پر بھی ضرور و بال آتا کیونکہ فرشتہ " نے پیلاطوس کی جورو کو یہ خبردی تھی کہ اگر یسوع مرگیاتو یاد رکھو کہ تم پر وبال آئے گا مگر پیلا لوس پر کوئی وبال نہ آیا یہ ہے جب پیل طوس کی بیوی کو فرشتہ نظر آیا اور انہیں اس کو دھمکایا کہ اگر میسورع مارا گیا تو اس تمہاری تباہی ہوگی۔یہی اشارہ خدا تعالی کی طرف سے بچانے کے لئے تھا۔ایسا دنیا میں کبھی نہیں ہوا کہ اس پر کسی راستباز کی حمایت کے لئے فرشتہ ظاہر ہوا ہوا اور پھر رویا میں فرشتہ (4) کا ظاہر ہونا عبث اور درحاصل گیا ہو اور سیکی سفارش کے لئے آیا ہو وہ ہلاک ہو گیا ہو یا سے ( صلیب پر چڑھانے سے پہلے اسی رات پیلاطوس کی بیوی نے جو اس ملک کا بادشاہ تھا ایک ہولناک خواب دیکھا تھا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ اگر یہ شخص جو یسوع کہلاتا ہے قتل کیا گیا تو تم پر تباہی آئے گی۔استھی یہ خواب اپنے خاوند یعنی پیلاطوس کو بتلایا اور چونکہ دنیا دار لوگ اکثر وہمی اور بزدل ہوتے ہیں اس لئے پیلاطوس خاوند اس کا اس خواب کو سن کہ بہت ہی گھرایا اور اندر ہی اندر اس فکر میں لگ گیا کہ کسی طرح یسوع کو قتل سے بچا لیا جائے سو اس سوئی منصوبہ کے انجام کے لئے پہلا داؤ جو اب نہی یہودیوں کے ساتھ کھیلا وہ یہی تھا کہ یہ تدبیر کی کہ میسوع کو جمعہ کے روز عصر کے وقت صلیب دی جائے۔۔۔۔۔پہلا سبب یہی تھا کہ پیلاطوس کی بیوی کوخواب آیا اور اس ڈر کو پیلاطوس نے یہ تدبیرسوچی کہ یسوع جمعہ کے دن عصر کے وقت صلیب دیا جائے " ہے و اس کی دیعنی پیلاطوس کی۔ناقل ) عورت نے خواب دیکھی کہ شخص را استبانہ ہے اگر پیلاطوس کہ اس کو قتل کر سے گا تو پھر اس میں اس کی تباہی ہے سو پیدا طوسی اس خواب کو سن کر اور بھی کرے کی ڈھیلا ہو گیا۔اس خواب پر غور کر نے سے جو انجیل میں بھی ہے ہر ایک ناظر بصیر سمجھ سکتا ہے میں کہ ارادہ اپنی یہی تھا کہ مسیح کو قتل ہونے سے بچاو ہے سو پہلا اشارہ منشاء اہلی کا اس :- ايام الصلح ۳۵ جلد ما ۱۴ : كتاب البرية ملا جلد ١٣ : : سراجدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب یہ جلد ۱۲: - -- ايام الصلح ص۱۲ ، ۱۳۲ جلدم :