کسر صلیب — Page 355
۳۵۵ (۱۲) اگر یہ سوال ہو کہ کونسا قرینہ خالص مسیح کے لفظ کا اس بات یہ ہے کہ اس موت سے مراد حقیقی موت مراد نہیں ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ قرینہ بھی خود مسیح نے فرمایا ہے جبکہ فقیہہ اور فریسی اور یہودیوں کے مولوی اکھٹے ہو کہ اس کے پاس گئے کہ تو نے مسیح او ہونے کا تو دعوی کیا پر اس دعوی کو کیونکہ بغیر معجزہ کے ہم مان لیں تو حضرت مسیح نے ان فقیہوی اور مولویوں کو جواب دیا کہ اس زمانہ کے حرام کار لوگ مجھ سے معجزہ مانگتے ہیں لیکن ان کو بنجر یونس ہی کے حجزہ کے اور کوئی معجزہ نہیں دکھایا جائے گا یعنی یہ معجزہ دکھایا جائے گا کہ جیسے یونس نبی تین دن مچھلی کے پیٹ میں زندہ رہا اور برا نہیں ایسا ہی قدرت اپنی سے میسج بھی تین دن تک بحالت زندگی قبرس رہے گا اور نہیں کریگا۔اگر مسیح کے الفاظ مذکورہ کوحقیقی موت پر حمل کرلیں تو یہ معجزہ یونس کی مشابہت کا باطل ہو جائے گا کیونکہ یونس مچھلی کے پیٹ میں بیحالت نہ ندگی رہا تھا نہ سرکہ ہو کہ۔سوا اگر مسیح مرگیا تھا اور میت کی حالت میں قبر میں داخل کیا گیا تھا تو اس کو یونس کے اس واقعہ سے کیا مشابہت اور یونس کے واقعہ کو اس واقہ سے کیا مناسبت اور مردوں کو زندوں سے کیا ماثلت۔سو یہ کافی اور کامل قرینہ ہے کہ مسیح کا یہ کہنا کہ میں تین دن تک کروں گا حقیقت پر محمول نہیں بلکہ اس مجازی موت مراد ہے جو سخت بخشی کی حالت تھی۔حضرت عیسی صلیب پر ہر گز نہیں سرسے ورنہ وہ نعوذ باللہ اپنے لئے یونس نہی کی مثال پیشش کرنے میں دروغ گو ٹھرتے ہیں " سے "اگر وہ صلیب پر مرتا تو اپنے قول سے خود جھوٹا ٹھہرتا کیونکہ اس صورت میں یونس کے ساتھ اس کی کچھ مشابہت نہ ہوتی " کے نجیب بات ہے کہ ایک طرف تو حضرات عیسائیاں انجیلوں کے حوالہ سے یہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسی کے اس واقعہ کو یونس کے واقعہ اور اسحق کے واقعہ سے مشابہت تھی اور پھر آپ ہی اس مشابہت کے برخلاف عقیدہ رکھتے ہیں۔کیا وہ نہیں بتلا سکتے ہیں کہ یونس نبی چھلی کے پیٹ میں مردہ ہونے کی حالت میں داخل ہوا تھا اور مردہ ہونے کی حالت میں اس کے اندر او یا تین دن تک رہا۔پس یونس سے میسوع کی مشابہت کیا ہوئی۔زندہ کو مردے سے کیا مشابہت؟ مرست : ان اراد ام حقه اول مت بت جلد خمیر با این حمد ترجمه پنجم حاشیه من جلد ۲۱ : : سراجدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب مل جلد ۶۱۲