کسر صلیب

by Other Authors

Page 349 of 443

کسر صلیب — Page 349

۳۴۹ في الدنیا) اسی صورت میں درست ہو سکتا ہے کہ مسیح علیہ السلام نے صلیب پر وفات نہ پائی ہو۔کیونکہ صلیہ کے وقت تک ان کو دنیا میں وجاہت نصیب نہ ہوسکی۔یہ وجاہت جیسا کہ مذکورہ بالا حوالہ سے واضح ہے ان کو واقعہ صلیہ کے بعد نصیب ہوئی جب وہ شام سے ہجرت کر کے کشمیر آئے۔پس جب خدائی بیان کی سچائی میں شک نہیں ہو سکتا تو لازمی طور پر ماننا پڑے گا کہ حضرت مسیح صلیب پر فوت نہیں ہوئے کیونکہ تاریخی طور پر یہ امر ثابت شدہ ہے کہ صدی کے واقعہ تک ان کو دنیا میں عزت حاصل نہیں ہوئی بلکہ ان کی حالت ان کے اپنے الفاظ میں یہ تھی کہ :۔لومڑیوں کے بھٹ ہوتے ہیں اور ہوا کے پرندوں کے گھونسلے مگر ابن آدم کے لئے سر دھرنے کی بھی جگہ نہیں" سے ان کو جو وجاہت نصیب ہوئی وہ واقعہ صلی کے بعد ہوئی۔پس ان کی صید بی موت کا خیال باطل ہے۔حدیثی براہین قرآن مجید کے علاوہ احادیث نبویہ سے بھی اس بات کے دلائل ملتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر فوت نہیں ہوئے۔چنانچہ حدیث کے دلائل درج ذیل ہیں :- چھٹی دلیل صیبی میت کی تو دیدیں بھٹی دلیل حدیث کی رو سے پیش کی گئی ہے۔احادیث میں حضرت عیسی علیہ السلام کی عمر باختلاف روایات ۱۲۰ اور ۱۲۵ سال بیان کی گئی ہے۔ان دونوں قسم کی احادیث میں سے خواہ کسی حدیث کو بنیاد بنا لیا جائے ہمارا استدلال ہر صورت میں یہ ہے کہ اگر حادثہ صلیب کے وقت ان کی مدت مان نی جائے جو ۳۲ یا ۳۳ سال کی عمر میں پیش آیا تھا تو پھر ان کے ۱۲۰ یا ۱۲۵ سال تک آیا نہ زندہ رہنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔پس حدیث کے بیان کے مطابق صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح واقعہ صلیہ کے بعد زندہ رہنے اور یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ وہ صلیب پر فوت نہیں ہوئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس دلیل کو یوں بیان فرمایا ہے :- احادیث میں آیا ہے کہ اس واقعہ کے بعد عیسی بن مریم نے ایک سو بین کلی برس کی عمر بائی اور پھر فوت ہو کر اپنے خدا کو حاملا له لے :- لوقا ه : تذكرة الشهادتين من - جلد ۶۲۰