کسر صلیب

by Other Authors

Page 350 of 443

کسر صلیب — Page 350

۳۵۰ 7 نیز فرمایا حدیث صحیح میں حضرت عیسی کی عمر ایک سو بیس برس مقرر کر دی گئی ہے ؟ 1 پھر اسی تسلسل میں فرمایا : - لے حدیث صحیح سے ثابت ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی ایک سو بیس برس کی عمر ہوئی تھی لیکن تمام یہود و نصاری کے اتفاق سے صلیب کا واقعہ اس وقت پیش آیا جبکہ حضرت ممدوح کی عمر صرف تینتیس برس کی تھی۔اس دلیل سے ظاہر ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے صدی سے بفضلہ تعالیٰ نجات پا کر باقی عمر سیاحت میں گزاری تھی سے ساتویں دلیل واقعہ صلیہ سے زندہ بچ نکلنے کا ایک اور ثبوت احادیث کی رو سے یہ ملتا ہے کہ احادیث میں حضرت مسیح علیہ السلام کے ہجرت کرنے کا واضح ذکر پایا جاتا ہے۔ظاہر ہے کہ یہ برت واقعہ صلیب کے بعد ہی ہوسکتی ہے کیونکہ اس سے قبل ہجرت ثابت نہیں۔اور صلیب کے حادثہ کے بعد ہجرت ان کے مدد سے بچ نکلنے کا ثبوت ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس سلسلہ میں فرماتے ہیں : احادیث میں معتبر روایتوں سے ثابت ہے کہ ہمار سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سیح کی عمر ایک سو پچیس برس کی ہوئی ہے اور اس بات کو اسلام کے تمام فرقے مانتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام میں دو ایسی باتیں جمع ہوئی تھیں کہ کسی نبی میں وہ دونوں جمع نہیں ہوئیں۔دا) ایک یہ کہ انہوں نے کامل عمر پائی یعنی ایک سو پچیس برس زندہ رہے۔(۲) دوم یہ کہ انہوں نے دنیا کے اکثر حصوں کی سیاحت کی اس لئے نبی ستیاح کہلائے۔اب ظاہر ہے کہ اگر وہ تینتیس برس کی عمرمیں آسمان کی طرف اٹھائے جاتے تو اس صورت میں ایک سو پچیس برسی کی روایت صحیح نہیں ٹھہر سکتی تھی اور نہ اس چھوٹی سی عمر میں تینتیس برس میں سیاحت کر سکتے ہیں۔اور یہ روایتیں نہ صرف حدیث کی معتبر اور قدیم کتابوں میں لکھی ہیں۔بلکہ مسلمانوں کے فرقوں۔میں اس تواتر سے مشہور ہیں کہ اس سے بڑھ کہ متصور نہیں کنز العمال جو احادیث کی ایک سے ہیں سے بڑھ کر متصورنہیں کنز العمال جواحادیث جامع کتاب ہے اس کے صفحہ ۲۴ (جلد دوم) میں ابو ہریرہ سے یہ حدیث لکھی ہے اوحی الله تعالى الى عينى ان يا عيسى انتقل من مكان الى مكان لكلا تعرف فتودى ہے۔ایام المصطلح ماشیہ من جلد ۱۴ : را از حقیقت حاشیہ ملت ۳ - جلد بن