کسر صلیب

by Other Authors

Page 348 of 443

کسر صلیب — Page 348

۳۴۸ نصیب ہونی چاہیئے لیکن امر واقعہ کیا ہے ؟ حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کے الفاظ میں : کیا اب ظاہر ہے کہ حضرت مسیح نے ہیرودیس اور بلا طوس کے علاقہ میں کوئی عزت نہیں پائی بلکہ غایت درجہ کی تحقیر کی گئی اور یہ خیال کہ دنیائیں پھر اگر عزت اور بزرگی پائیں گے۔یہ ایک بے اصل وہم ہے جو نہ صرف خدا تعالیٰ کی کتابوں کے منشاء کے مخالف بلکہ اس کے قدیم قانونِ قدرت سے بھی مغائر اور مباین اور پھر ایک بے ثبوت امر ہے۔لے ظاہر ہے کہ خدا کا کلام باطل نہیں ہو سکتا۔دوسری طرف واقعات ہمارے سامنے ہیں۔اس عقیدہ کا حل کیا ہے ؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان واقعات کی اصلیت بیان کرتے ہوئے اس عقدہ کوحل فرماتے ہیں :- واقعی اور سچی بات یہ ہے کہ حضرت شیخ علیہ السلام نے اس بد بخت قوم کے ہا تھ سے نجات پا کہ جب ملک پنجاب کو اپنی تشریف آوری سے بر بخشا تو اس ملک میں خدائے تعالیٰ نے ان کو بہت عزت دی اور بنی اسرائیل کی وہ دن قومیں جو گم تھیں اس جگہ آکر ان کول گیش۔۔۔۔چونکہ حضرت مسیح کی دعوت میں آنے والے نبی کے قبول کرنے کی وصیت تھی اس لئے وہ دینی فرقے جو اس ملک میں آکر افغان اور کشمیری کہلائے آخر کار سب کے سب مسلمان ہو گئے۔غرض اس ملک میں حضرت مسیح کو بڑی وجاہت پیدا ہوئی " سے فر مایا : رمایا حال میں ایک بستہ ملا ہے جو اسی ملک پنجاب میں سے بیہا مکہ ہوا ہے اس پر حضرت عیسی علیہ السلام کا نام پالی تحریر میں درج ہے اور اسی زمانہ کا سکہ ہے جو حضرت مسیح کا زمانہ تھا۔اس کی یقین ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے اس ملک میں آکر شاہانہ عزت پائی اور غالباً یہ سگر ایسے بادشاہ کی طرف سے جاری ہوا ہے۔جو حضرت مسیح پر ایمان سے آیا تھا۔ایک اور سنگہ بہ آمد ہوا ہے اس پر ایک اسرائیلی مرد کی تصویر ہے۔قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی حضرت مسیح کی تصویر ہے۔قرآن شریف میں ایک یہ بھی آیت ہے کہ مسیح کو خدا نے ایسی برکت دی ہے کہ جہاں جائے گا وہ مبارک ہوگا وَجَعَلَنِي مُبَارَكًا اينما كنتُ ) سوان ر سکوں سے ثابت ہے کہ اسی خدا سے بڑی برکت پائی اور وہ فوت نہ ہوا جب تک اس کو ایک شاہانہ عزت نہ دی گئی یہ تے حضرت مسیح علیہ السلام کی میلیبی موت سے نجات پر ہمارا استدلال یہ ہے کہ قرآن شریف کا یہ بیان روجتها ه: مسیح ہندوستان میں منٹ ڈھانی خزائن جلده ) : ه: - ایضاً ص ۵۴ چلد ۱۵