کسر صلیب

by Other Authors

Page 346 of 443

کسر صلیب — Page 346

کہ ابتلاء کے بعد اپنی پناہ میں لیا جائے اور کثرت مصائب اور تکلف ہونے سے بچایا جائے جیسا کہ اله تعالیٰ فرماتا ہے۔الم يجدك يتيما نادی اسی طرح تمام قرآن شریف میں ادی اور آدمی کا لفظ ایسے ہی موقعوں پر استعمال ہوا ہے کہ جہاں کسی شخص یا قوم کو کسی قدر تکلیف یا کے بعد پھر آرام دیا گیا ہے دیا پس آیت کریمہ مذکورہ بالا میں آدینھما کا لفظ واضح طور پر اشارہ کر رہا ہے کہ الہ تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کو واقعہ صلیب کی مصیبت سے نجات کے بعد ایک محفوظ مقام پر پناہ دی اور یہ ان کے صلیب سے زندہ اتر آنے کی ایک بہت بڑی دلیل ہے۔چوتھی دلیل اس ضمن میں جو بھی دلیل کے طور پر حضور نے آیت قرآنی کے اس حصہ کو پیش فرمایا ہے :- ومُظَهِرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا : در یعنی میں تجھے کا فرلوگوں کے الزامات سے پاک وصاف کیروں گا حضور فرماتے ہیں :۔" قرآن شریف میں ایک یہ بھی آیت ہے ومُطَّهِرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا - یعنی اسے عیسی میں ان الزاموں سے تجھے بری کروں گا اور تیرا پاکدامن ہونا ثابت کر دوں گا اور ان تہمتوں کو دور کر دوں گا جو تیر سے پر یہود اور نصاری نے لگائیں " سے پھر اس سے استدلال کرتے ہوئے فرمایا : - یہ ایک بڑی پیش گوئی تھی اور اس کا ماحصل یہی ہے کہ یہود نے یہ تہمت لگائی تھی کہ نعوذ باللہ حضرت مسیح مصلوب ہو کر معدن ہو کر خدا کی محبت ان کے دل میں سے جاتی رہی اور جیسا کہ لعنت کے مفہوم کے لئے شرط ہے ان کا دل خدا سے برگشتہ اور خدا سے بیزالہ ہوگیا اور تاریکی کے بے انتہا طوفان میں پڑ گیا اور بدیوں سے محبت کرنے لگا اور کل نیکیوں ! کا مخالف ہو گیا اور خُدا سے تعلق توڑ کر شیطان کی بادشاہت کے ماتحت ہو گیا اور اس میں اور خدا میں حقیقی دشمنی پیدا ہوگئی اور یہی تہمت ملعون ہونے کی نصاری نے بھی لگائی تھی۔۔۔۔۔سو حضرت مسیح پر یہ سخت نا پاک تہمتیں لگائی گئی تھیں اور مُجِھوٹ کی پیشگوئی میں یہ اشارہ - کہ ایک زمانہ وہ آتا ہے کہ خدائے تعالیٰ ان الزاموں سے حضرت مسیح کو پاک کر یگا ہے تذکرة الشہادتین مث جلد ۲۰ بن گے میری ہندوستان میں مٹ جلده : ۱۳ - ایضاً