کسر صلیب — Page 347
ظاہر ہے کہ یہ سب الزامات مسیح پر اس وجہ سے تھے کہ معترضین کے خیال کے مطابق وہ صلیب پر کر گئے تھے۔اب جب تک صلیب پر مرنے کا رد نہ ہو ان الزامات کا رہ بھی نہیں ہو سکتا۔پس گویا اشارہ ہے۔کہ رہو رد ایک وقت آئے گا جبکہ یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ مسیح مصیب پر نہیں ملا تھا۔چنانچہ اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن حکیم کی گواہی سے اور قبر مسیح کے انکشاف وغیرہ سے یہ امر ثابت فرما دیا ہے فالحمد للہ علی ذالک۔حضور نے فرمایا ہے :- " حضرت عیسی علیہ السلام کی تطہیر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گواہی سے بھی عقلمندوں کی نظروں میں بخوبی ہوگئی۔کیونکہ آنجناب نے اور قرآن شریف نے گواہی دی کہ وہ الزام سب جھوٹے ہیں جو حضرت عیسی علیہ السلام پر لگائے گئے تھے۔لے اسی طرح قبرسیح کے مل جانے سے مشہور محسوس طور پر اور بڑی صراحت کے ساتھ الزامات کا غلط ہونا ثابت ہو گیا اور انس طرح یہ بات بھی ثابت ہوگئی ہے کہ شیخ علیہ السلام ہرگز ہرگز صلیب پر نہیں سکے۔ہو پانچویں دلیل حضرت مسیح علیہ السلام کے مطلب پر نہ مرنے کی پانچویں دلیل کے طور پر حضور نے اس آیت کریلہ کو پیش فرمایا ہے :- " إذْ قَالَتِ الْمَلَئِكَةُ يُمَرْيَمُ اِنَّ اللهَ يُبَشِّرُكَ بِكَلِمَةٍ مِنْهُ اسْمُهُ المسيح بن مريم المقربين وَجِيْمًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمِنَ (آل عمران : ۳۶) اس آیت کے حصہ وجيها في اللدُّنیا سے حضور نے حضرت مسیح علیہ السلام کی صلیبی موت کی تردید کا استدلال فرمایا ہے۔آپ فرماتے ہیں:۔" قرآن شریف میں ایک یہ بھی آیت حضرت مسیح کے حق میں ہے وجيما في الدنيا والآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ۔اس کا ترجمہ یہ ہے کہ دنیا میں بھی مسیح کو اس کی زندگی میں باتیں وجاہت یعنی عزت اور مرتبہ اور عام لوگوں کی نظر میں عظمت اور بزرگی ملے گی۔اور آخرت میں بھی " سے اس آیت کہ یہ مذکورہ بالا کے مطابق مسیح کو اس دنیا اور آخرت میں، ہر دو جگہ عزت اور سرخروئی مسیح ہندوستان میں مٹ جلد ۱۲ ہے : مسیح ہندوستان میں ص ۵۳۰ جلد ۱۵