کسر صلیب

by Other Authors

Page 343 of 443

کسر صلیب — Page 343

صلیب پر چڑھایا نہیں گیا بلکہ منشاء یہ ہے کہ جو صلیب پر چڑھانے کا اصل مدعا تھا یعنی قتل کرنا اسے خدا تعالٰی نے مسیح کو محفوظ رکھا اور یہودیوں کی طرف سے اس فعل یعنی قتل عمد کا اقدام تو ہوا مگر قدرت اور حکمت الہی سے تکمیل نہ پاسکا یہ ہے پھر اسی سلسلہ میں مزید فرمایا :- " وفي آية : وما قتلوه وما صلبوه إشارة أخرى وهى ان النصاري زعموا ان عيسى صلب لاجل تظهيرهم من المعاصي وظنوا كانه حمل بعد الصلب جميع ذنوبهم على نفسه وهو كفارة لهم ومظهرهم من جميع المعاصى والخطيئات۔ففى نفى الصلب ردّ على النصارى وهدم العقيدة الكفارة " حضرت مسیح پاک علیہ السلام کے ان سب حوالہ جات سے اس دلیل کی پوری پوری وضاحت ہو جاتی ہے کہ قرآن مجید کی اس مذکورہ بالا آیت کی رو سے حضرت مسیح علیہ السلام ہرگز صلیب پر فوت نہیں ہوئے۔وهو المراد - دو شهری دلیل صلیبی موت کی تردید کے لئے حضور نے دوسری آیت یہ پیش فرمائی ہے :- " يَا عِيسي إنِّي مُتَوَنِيْكَ وَرَافِعُكَ إِلَى وَمُظَهِرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ القِيَامَةِ الآية۔( آل عمران ۵۶ ) اس آیت کریمہ میں حضرت علی علیہ السلام کو خدا نے یہ وعدہ دیا ہے کہ وہ ان کی ترقی کرے گا۔ترقی کے لفظ سے حضور نے صلیبی موت کی نفی پر استدلال فرمایا ہے کیونکہ توفی سے مراد طبعی موت ہوا کرتی ہے پس صلیب پر مرنے یا مقتول ہونے کی صورت میں خدائی وعدہ پورا نہیں ہو سکتا اور یہ سب کو مسلم ہے کہ یہ وعدہ سچا ہے اور پورا ہوا۔پس ثابت ہوا کہ حضرت مسیح مصیب پر نہیں مرے بلکہ بعد میں طبعی موت سے فوت ہوئے ہیں۔حضور نے اس دلیل کو ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے :- تو اللہ جل شانہ نے۔۔۔۔۔فرمایا ہے۔یا میسی إِلَى مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَى يعنى --- انزالہ اوہام حصہ اول ۲۹۲ - جلد ۳ به كرامات الصادقين منه - جلدی ہے