کسر صلیب

by Other Authors

Page 342 of 443

کسر صلیب — Page 342

جائیں اور اس کو مارا بھی جائے تب وہ ملعون کی موت کہلائے گی۔مگر خدا نے حضرت عیسی کو اس موت سے بچالیا۔وہ صلیب پر چڑھائے گئے مگر صیب کے ذریعہ سے ان کی موت نہیں ہوئی۔ہاں یہود کے دلوں میں یہ شبہ ڈال دیا کہ گویاوہ صلیب پر مر گئے ہیں اور یہی دھو کا نصاری کو بھی لگ گیا۔۔۔۔۔۔اصل بات صرف اتنی تھی کہ اس صلیب کے صدمہ سے بے ہوش ہو گئے تھے اور یہی معنے شبہ لھم کے ہیں " له * پھر مزید وضاحت کے طور پر فرمایا : - قرآن شریف میں جو وارد ہے وما قتلوه وما صلبوها یعنی عیسی نہ مصلوب ہوا نہ مقتول ہوا۔اس بیان سے یہ بات منافی نہیں ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر زخمی ہو گئے کیونکہ مصلوبیت سے مراد وہ امر ہے جو صلیب پر چڑھانے کی علت غائی پر ہے۔اور وہ قتل ہے اور کچھ شک نہیں کہ خدا تعالیٰ نے دشمنوں کے اس اصل مقصود سے ان کو محفوظ رکھا۔اسکی مثال ایسی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت فرمایا ہے وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاس یعنی خدا تجھ کو لوگوں سے بچائے گا۔حالانکہ لوگوں نے طرح طرح کے دُکھ دیئے۔وطن سے نکالا۔دانت شہید کئے ، انگلی کو زخمی کیا اور کئی زخم تلوار کے پیشانی پر لگائے۔سو در حقیقت اس پیشگوئی میں بھی اعتراض کا محل نہیں کیونکہ کفار کے حملوں کی علت غائی اور اصل مقصود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زخمی کرنا یا دانت کا شہید کرنانہ تھا بلکہ قتل کرنا مقصود بالذات تھا۔سو کفار کے اصل ارادے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو خدا نے محفوظ رکھا۔اسی طرح جن لوگوں نے حضرت مسیح کو سولی پر چڑھایا تھا ان کی اس کارروائی کی علت غائی حضرت مسیح کا زخمی ہونا نہ تھا بلکہ ان کا اصل ارادہ حضرت عیسی علیہ السلام کو سولی کے ذریعہ سے قتل کر دیا تھا سو خدا نے ان کو اس بد ارادہ سے محفوظ رکھا اور کچھ شک نہیں کہ وہ مصلوب نہیں ہوئے۔پس قول ما صلبوها ان پر صادق آیا ہے نیز فرمایا :- -١٥ " اناجیل اربعہ قرآن شریف کے اس قول پر کہ ما قتلوه و ما صلبوه صاف شہادت دے رہی ہیں کیونکہ قرآن کریم کا منشاء ما صلبوہ کے لفظ سے یہ ہر گز نہیں ہے کہ میسج لیکچر سیالکوٹ مٹا روحانی خزائن جلد ۲۰ است بیچن حاشیه در حاشیه ۱۲ جلد ۱ :