کسر صلیب

by Other Authors

Page 344 of 443

کسر صلیب — Page 344

اسے میسی میں تجھے طبعی وفات دوں گا اور اپنی طرف تیرا رفع کروں گا۔یعنی تو مصلوب نہیں ہو گا۔اس آیت میں یہود کے اس قول کا رد ہے کہ وہ کہتے تھے کہ عیسی مصلوب ہو گیا ہے اس لئے ملعون ہے اور خدا کی طرف اس کا رفع نہیں ہوا اور عیسائی کہتے تھے کہ تین دن لعنتی رہ کر پھر یہ قع ہوا۔لے تیسری دلیل تیسری دلیل کے طور پر حضور علیہ السلام نے اس آیت کو پیش فرمایا ہے :- وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُ آتِيَة وَآدَيْنَهُمَا إِلَى رَبوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَمَعَيْنِ۔ور (مؤمنون (۵۱) اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے حضور علیہ السلام فرماتے ہیں : - " ایک اور قوی دلیل اس بات پہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ او تنهُما إلى ربوة ذَاتِ قَرَارٍ وَ مَعِینِ یعنی ہم نے عیسی اور اس کی ماں کو ایک ایسے ٹیلے پر پناہ دی جو آرام کی جگہ تھی اور ہر ایک دشمن کی دست در اندی سے دور تھی اور پانی اس کا بہت خوش گوار تھا۔یادر ہے کہ اڈی کا لفظ عربی زبان میں اس جگہ پر بولا جاتا ہے جب ایک مصیبت کے بعد کسی شخص کو بیاہ دیتے ہیں ایسی جگہ میں جو دارالامان ہوتا ہے۔پس وہ دارالامان ملک شام نہیں ہو سکتا۔کیونکہ ملک شام قیصر روم کی عملداری میں تھا اور حضرت عیسی قیصر کے باغی قرار پاچکے تھے۔پس وہ کشمیر ہی تھا جو شام کے ملک سے مشابہ تھا اور قرانہ کی جگہ تھی لعنتی امن کی جگہ تھی لعنتی قیصر روم کو اسی کچھ تعلق نہ تھا " کے پھر حضرت مسیح علیہ السلام کے بارہ میں فرمایا :- وہ صلیب پر سے زندہ اتارا گیا اور پھر پوشیدہ طور پر باغبانوں کی شکل بنا کہ اس باغ سے جہاں وہ قبر میں رکھا گیا تھا یا ہر نکل آیا اور خُدا کے حکم سے دوسرے ملک کی قبرمیں یا طرف چلا گیا اور ساتھ ہی اس کی ماں گئی۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اديْنَهُما إلى ربوة ذات قرار و معین یعنی اس مصیبت کے بعد جو صلیب کی مصیبت تھی ہم نے میسج۔مَعِينِ اور اس کی ماں کو ایسے ملک میں پہنچا دیا جس کی نہین بہت اونچی تھی اور صاف پانی تھا۔: كتاب البرية ٣٢٣ - جلد ١٣ : : ش با ضمیمه بر این احمدیہ حصہ پنجم ما ۴۰۵ جلد ۱ ۹۲ -