کسر صلیب

by Other Authors

Page 309 of 443

کسر صلیب — Page 309

1۔9 خلاصہ دلیل یہ ہے کہ کفارہ کی بنیاد گناہ پر ہے۔پس یہ گناہ سے نجات کا ذریعہ کیسے ہو سکتا ہے۔ہذا اس کا سارا فلسفہ باطل ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس دلیل کو ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے : آپ فرماتے ہیں :- ایک عاجزہ انسان کو خدا بنانا۔۔۔۔۔اور اس شخص کو خدا کا بھی کہنا اور پھر شیطان کا بھی۔کیا ان گندی اور نا معقول باتوں کو مانا پاک فطرت لوگوں کا کام ہے ؟ انا شد انتیسویں دلیل کفارہ کے خلاف ایک دلیل یہ ہے کہ اس عقیدہ میں ایک عجیب قسم کا تضاد پایا جاتا ہے جو اس کو باطل قرار دیتا ہے۔عیسائی حضرات یہ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے جو خُدا تھے صلیب پر مرکہ بیان دیدی اور ملعون ہو گئے۔اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ کیا خدا یا خدا کا بیٹا ملعون اور مصلوب ہو سکتا ہے؟ کیا خدا مرا بھی کرتا ہے۔اس کی صفت تو یہ ہے کہ :۔" بقا صرف اسی کو ہے یا نہ پس اگر مسیح خدا تھا اور مر گیا تو پھر وہ خدا نہیں ثابت ہو سکتا۔اور جب میں خدا نہیں تو انکی قربانی کفارہ نہیں ہوسکتی اس اعتراف کے جواب میں وہ یہ کہتے ہیں کہ مسیح میں دو شخصیتیں تھیں۔ایک انسان کی اور دوسری خدا کی۔ایک جسم تھی اور ایک روح ہے لیکن ظاہر ہے کہ مسیح کی ان شخصیات میں عیسائی کوئی حد فاصل نہ مقرر کرتے ہیں اور نہ کر سکتے ہیں۔در اصل اس طرح وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ صلیب پر صرف مسیح انسان مرا تھا۔بیج جو خدا تھا وہ نہ مرا گویا ان کی روح خدا تھی جو مری نہیں بلکہ زندہ رہ گئی۔عیسائیوں کے اس جواب پر یہ مقولہ صادق آتا ہے کہ آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا۔ایک اعتراض سے تو عیسائی بظاہر بچ گئے کہ ان کا خدا صلیب پر نہیں مرا لیکن ایک دوسرا ز بر دست اعتراض ان کی اس وضاحت پر یہ پڑتا ہے کہ جب مسیح جو خدا تھا وہ نہیں مرا بلکہ مسیح انسان صلیب پر مرا ہے تو وہ کفارہ کیسے ہوا ؟ کفارہ کے لئے تو ضروری ہے کہ خدا اپنی قربانی دے جو پاک اور معصوم ہے مسیح جو انسان تھا اور مریم کے پیٹ سے پیدا ہوا وہ تو گناہگار تھا۔وہ اس قربانی کے لائق نہیں ٹھہر سکتا۔پس ثابت ہوا کہ اگر میں انسان نے صلیب پر جان دی تو وہ ایسا وجود نہیں کہ اسکی قربانی تمام بنی آدم کے گناہ کا کفارہ ہونگے۔اس ۱۵ - سراجدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب ما ر خ جلد ۲ به :- 1 - تمطاؤس ہے :