کسر صلیب

by Other Authors

Page 265 of 443

کسر صلیب — Page 265

۲۶۵ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بجاطور پر اس کو ایک معنی قربانی قرار دیا ہے۔کیا ایسی لعنتی قربانی گناہوں کی بخشش کا ذریعہ ہو سکتی ہے؟ ہر گتہ نہیں۔پس کفارہ باطل ہے۔آٹھویں دلیل کفارہ کی تردید میں ایک دلیل حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ پیش فرمائی ہے کہ کفارہ کی اس قسم کی قربانی کی تعلیم یہود کی کتب میں نہیں ملتی حالانکہ اگر یہی نجات کا حقیقی ذریعہ ہے تو سب قدیم مذاہب کی کتب میں اس کا ذکر ہونا چاہیے۔پس یہود کی کتب میں اس کا ذکر نہ ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ کفارہ باطل ہے۔ہمارا استدلال یہ ہے کہ اگر یہ قربانی واقعی حق تھی اور انسانی نجات کا یہی ایک ذریعہ ہے تو اس کا ذکر یہود کی کتب میں ضرور ہونا چاہیئے۔کیونکہ اول تو حضرت مسیح علیہ السلام یہود کی شریعیت کے ماتحت اور اس کے پابند تھے۔انہوں نے خود کہا ہے کہ :۔یہ نہ سمجھو کہمیں توریت یا نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کر نے آیا ہوں منسوخ کرنے نہیں بکہ پورا کرنے آیا ہوں کیونکہ میں تمسے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں ایک نقط یا ایک شوشہ توریت سے ہر گز نہ ملے گا جب تک سب کچھ پورا نہ ہو جائے یا اسے پس ثابت ہوا کہ حضرت مسیح توریت کے پابند تھے۔ظاہر ہے کہ اگر انہوں نے کفارہ کی تعلیم دی ہوتی تو اس کی بنیاد تو ریت پہ ہونی چاہیئے تھی۔پس اگر کفارہ صحیح ہے تو اس کا ذکر یہود کی کتب میں ہونا لازمی ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ کفارہ کے متعلق عیسائی یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ یہ بنی آدم کی نجات کا ذریعہ ہے۔ظاہر ہے کہ اگر یہ نجات کا ذریعہ ہے تو یہی ذریعہ یہود کے لئے بھی ہوگا۔اس صورت میں اس کا ذکر لانہمی طور پر ان کی کتب میں ہونا چاہیئے۔یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ ذریعہ پہلے نہیں تھا بلکہ بعد میں بنا ہے۔کیونکہ ایسا ہونا عقلاً محال ہے۔نیز بہت سے اور اعتراضات بھی وارد ہوتے ہیں۔پس ان دو وجوہ سے یہود کی کتب میں کفارہ کا ذکر ملناضروری ہے۔تب ہی اس عقیدہ کو عیسائیت کا صحیح عقیدہ قرانہ دیا جا سکتا ہے لیکن یہود کی کتب میں یا تو ریت میں کسی جگہ اس کفارہ کا ذکر تک نہیں جس کفارہ کو عیسائی پیش کرتے ہیں۔پس ثابت ہوا کہ یہ عقیدہ اصل شریعیت کا پیش کردہ نہیں بلکہ بعد کی ایجاد ہے۔نیز اسکی بنیا د شریعت نہیں بلکہ انسانی تخیل ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس دلیل کو اپنی کتب میں پیش فرمایا ہے۔اور اس کے سب ممکن پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی ہے۔:- متی 2۔