کسر صلیب — Page 264
نیز فریاد کھ شک نہیں کہ اگر میخود کشی مسیح سے بلا رادہ ظہور میں آئی تھی تو بہت بے جا کام کیا۔اگر وہی زندگی وعظ و نصیحت میں صرف کرتا تو مخلوق خدا کو فائدہ پہنچتا۔اس بے جا حرکت سے دوسروں کو کیا فائدہ ہوا سے پھر آپ فرماتے ہیں :- اگر عیسوع نے خود کشی کی تو میں اس سے زیادہ ہرگز تسلیم نہیں کروں گا کہ ایک ایسی بیوقوفی کی حرکت است صادر ہوئی جب سے اسکی انسانیت اور عقل پر ہمیشہ کے لئے داغ لگ گیا۔ایسی حرکت جس کو انسانی قوانین بھی ہمیشہ جرائم کے نیچے داخل کرتے ہیں کیا کسی عقلمند سے صادر ہو سکتی ہے ؟ ہر گز نہیں۔پس ہم یہ پوچھتے ہیں کہ فیسوع نے کیا سکھلایا اور کیا دیا؟ کیا وہ مفتی قربانی جس کا عقل اور انصاف کے نزدیک کوئی بھی نتیجہ علوم نہیں ہوتا ہے اس سلسلہ میں آپ کا ایک اور جامع حوالہ یہ ہے۔فرمایا : ہ اگر یہ سچ ہے کہ یسوع نے اس خیال سے کہ میر سے مرنے سے لوگ نجات پا جائیں " گے۔در حقیقت خود کشی کی ہے تو یسوع کی حالت نہاست ہی قابل رحم ہے اور یہ واقعہ پیش کرنے کے لائق نہیں بلکہ چھپانے کے لائق ہے ؟" اس قربانی کے مسئلہ کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ہمارے نزدیک تو مسیح کا اس طرح جان دینا ایک فضول اور عبث کام نظر آتا ہے لیکن عیسائی مسیح کے اس طرح صلیب پر مرنے کو بڑا ہی مستحسن اور مبارک کام خیال کرتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ اگر واقعی یہ بات درست ہے کہ یہ قربانی کا طریق اچھا ہے تو کیا وہ لوگ بھی اچھے ہیں جنہوں نے اس قربانی کی تقریب پیدا کی اور اس منصوبہ کے محرک ہوئے کیونکہ اصول یہی ہے کہ نیک قربانیوں کے محرک بھی نیک ہی ہوا کرتے ہیں۔ہم پوچھتے ہیں کہ کیا عیسائی یہودا اسکر یوطی کو نیک اور اپنا محسن قرار دے سکتے ہیں جس نے انجیل کی رو سے بقول ان کے اس پاک قربانی کا سبب پیدا کیا۔ظاہر ہے کہ عیسائی ہرگز ایسا نہیں کرتے اور نہ ایسا کرسکتے ہیں کیونکہ انجیل میں یہودا اسکر یوٹی کے یارہ میں صاف لکھا ہے کہ اس میں شیطان سمایا ہوا ہے۔پس ثابت ہوا کہ نہ اس قربانی کے متحرک نیک لوگ تھے اور نہ یہ قربانی اپنی ذات میں پاکیزہ تھی بلکہ : چشمه سیحی ملا جلد ۲۰ + ۱ - سراجدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب ۳ جلد ۱۲ : : سراجدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب حث جلد ۱۳ :