کسر صلیب — Page 248
۲۴۸ ا کفارہ کی بنیاد اس امر پر ہے کہ حضرت مسیح خدا اور خدا کے بیٹے تھے۔یہ بنیا د باطل ہے۔- کفارہ کی ایک بنیادی کڑی یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے علاوہ سب بنی آدم گناہگار ہیں۔یہ مفروضہ باطل اور خود تراشیدہ ہے لم - کفارہ کی رو سے حضرت مسیح علیہ السلام گناہ سے پاک اور معصوم ہیں۔یہ بات از روئے اناجیل درست نہیں۔کفارہ کی بنیاد اس پر ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر مر گئے تھے۔یہ بات با لبدا اہت غلط ہے -٥ - کفارہ یہ بتاتا ہے کہ خدا تعالی رحم کے طور پر بندوں کے گناہ معاف نہیں کر سکتا۔یہ امر فلائی شان قرآنی بیان اور خود سیمی مسلمات کی رو سے غلط ہے۔خدا ایسا کرتا ہے اور کر سکتا ہے۔- کفارہ کی رو سے حضرت مسیح علیہ السّلام نے اپنے آپ کو بخوشی اس قربانی کے لئے پیش کر دیا حالانکہ محملاً ایسا نہیں ہوا۔- کفارہ کا مقصد یہ ہے کہ انسانوں کے گناہ معاف ہو جائیں عملاً ایسا نہیں ہوتا کیونکہ عیسائی تسلیم کرتے ہیں کہ اعمال کا محاسبہ ہوگا۔کفارہ کا مقصد یہ تھا کہ اس کے گناہوں سے بچنے کا جذبہ پیدا ہو۔بدیوں سے نفرت پیدا ہو۔اور انسان گناہ سے بچ جائے عمل ایسا نہیں ہوتا بلکہ کفارہ توگناہ کر نیکی ایک زبر دست تحریک بنا ہوا ہے۔کفارہ کا ایک مقصد یہ بیان کیا جاتا ہے کہتا اس طرح پر خدا کی صفت رحیمیت اور خدائی رحم کا ظہور ہو جبکہ اس کفارہ کی تفصیلات اس بات کو رد کرتی ہیں۔۱۰- کفارہ کا ایک مقصد یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ اسکی خدائی عدل کا قیام اور ظہور ہو لیکن کفارہ کا اصول اس کے سراسر خلاف ہے۔} - کفارہ کا مقصد گناہوں کی معافی ہے جبکہ اس طریق قربانی کا گناہوں کی معافی کے ساتھ دور کا بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔کفارہ کی عقلی توجیہات کی جاتی ہیں لیکن یہ عقیدہ عقل کے سراسر خلاف ہے۔-۱۳ کفارہ کا اصول عام مشاہدہ کے خلاف ہے ۱۳ - کفارہ کو تمام بنی آدم کی نجات کا ذریعہ قرار دیا جاتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ یہ اصولی جنڈا نے کائنات کو پیدا کرتے وقت پیش کیوں نہ کیا؟