کسر صلیب — Page 249
۲۴۹ K ۱۵ - اگر بنی آدم کی نجات کا یہی طریق ہے تو اس کا ذکر کتب سابقہ اور دیگر ادیان میں کیوں نہیں ملتا ظاہر ہے کہ طریق نجات بارہ بارہ بدل نہیں جاتا۔- اگر مسیح انسانوں کے لئے کفارہ ہوا تو کیا خدا نے جنوں کے لئے اور دیگر مخلوقات کے لئے اپنے اور بیٹے بھی اسی طرح مصلوب ہونے کے لئے بھیجے اگر ایسا ہے تو اس کا ثبوت دیا جائے۔اگر نہیں تو کیوں ؟ کفارہ کا ایک لازمی نتیجہ یہ مانا جاتا ہے کہ حضرت مسیح نے لعنتی موت کو قبول کیا۔کیا ایسا گندہ لفظ یعنی لعنت کا جو اصل میں شیطانی خصلت ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام جیسے پاک نبی کے لئے استعمال کر سکتے ہیں۔ہر گنہ نہیں۔۱- اگر یہی مسئلہ بنی آدم کی نجات کا ذریعہ تھا تو علاوہ دیگر کتب میں اس کے ذکر کے خاص طور پر مسیح کی زبانی اس کی پوری تفصیل اور وضاحت ہونی چاہیے تھی۔لیکن ایسا نہیں ہے۔یہ بعید از عقل ہے کہ راہ نجات کا مسیح کی زبانی کوئی تفصیلی بیان نہ ہو۔۱۹ - قانون قدرت ہے کہ ادنی کو اعلیٰ کی خاطر قربان کیا جاتا ہے لیکن کفارہ میں اسکی بالکل بر عکس ہے کہ معصوم اور اکلوتے این اللہ کو گناہ گاروں کے بدلہ مصلوب کیا گیا۔JA ۲۰ - کفارہ کے اصول کی رو سے باپ شدید ظالم اور بیٹا شدید رحیم نظر آتا ہے باپ بیٹے میں یہ فرق خلاف قیاس ہے۔۲ - کفارہ کی بنیاد اس امر یہ ہے کہ خدا رحم بلا مبادلہ نہیں کرسکتا۔یہ بنیا د باطل ہے۔۔کفارہ انسانوں کے نیک اعمال کی راہ میں ایک زیر دست روک ہے۔-۲۳ - کفارہ کا اصول ایک متضاد اصول ہے اس کی رو سے مسیح ابن اللہ کو ملعون قرانہ دیا جاتا ہے۔بیٹے پر لعنت باپ پر بھی لعنت کو مستلزم ہے (نعوذ باللہ اس کیا الوہیت اور لعنت ایک جگہ جمع ہو سکتے ہیں۔ہرگز نہیں۔۲۴ - کفارہ کی رو سے خدا کو ظالم اور غضبناک قرار دینا لازمی ہے۔جنسی اکلوتے بیٹے پر ظلم کیا یہ امر الومیت کی شان سے بعید ہے ۲۵- عقيدة تثلیث کے مطابق جب اقانیم ثلاثہ ذات و صفات میں متحد اور یکساں ہیں تو کفارہ کے اصول کے مطابق اگر ابن الله ملعون قرار دیا جائے تو باپ اور روح القدس بھی لعنت کی پیسٹ میں آجاتے ہیں۔گویا جب تینوں ایک ہیں تو تینوں ملعون قرار پاتے ہیں یہ کیسے لکن ہے؟