کسر صلیب — Page 235
۲۳۵ عیسی کو تو ایک انسان سمجھتے ہیں مگر اس بات کے ہم قائل ہیں کہ اسکے ساتھ اقنوم ابن کا تعلق تھا۔کیونکہ مسیح نے انجیل میں کہیں یہ دعوی نہیں کیا کہ اقوم ابن سے میرا ایک خاص تعلق ہے۔اور وہی اقنوم ابن اللہ کہلاتا ہے نہ ہیں بلکہ انجیل یہ بتلاتی ہے کہ خود مسیح ابن اللہ کہلاتا تھا اور جب مسیح کو زندہ خدا کی قسم دے کر سردار کاہن نے پوچھا کہ کیا تو خدا کا بیٹا ہے تو اس نے یہ جواب نہ دیا کہ میں تو ابن اللہ نہیں بلکہ میں تو وہی انسان ہوں جس کو تیس برس سے دیکھتے چلے آئے ہو ہاں ابن اللہ وہ اقنوم ثانی ہے جنسی اب مجھ سے قریباً دو سال سے تعلق پکڑ لیا ہے۔بلکہ اس نے سرحان کا ہن کو کہا کہ ہاں وہی ہے جو تو کہتا ہے۔پس اگر ابن اللہ کے معنی اس جگہ وہی ہیں جو عیسائی مراد لیتے ہیں تو ضرور ثابت ہوتا ہے کہ مسیح نے خدائی کا دعویٰ کیا۔پھر کیونکہ کہتے ہیں کہ ہم مسیح کو انسان سمجھتے ہیں۔کیا انسان صرف جسم اور ہڈی کا نام ہے ؟۔(۲) اگر کوئی یہ کہے کہ اقوم ثانی کا مسیح کی روح سے ایسا اختلاط ہو گیا تھا کہ درحقیقت وہ دونوں ایک ہی چیز ہو گئے تھے اس لئے مسیح نے اقنوم ثانی کی وجہ سے جو اسکی ذات کا عین ہو گیا تھا خدائی کا دعویٰ کر دیا تو اس تقریر کا مال بھی یہی ہوا کہ بموجب زعم نصاری کے ضرور مسیح نے خدائی کا دعویٰ کیا کیونکہ جب اقنوم ثانی اسکی وجود کا تعین ہو گیا اور اقنوم ثانی خدا ہے تو اسکی یہی نتیجہ نکلا کہ مسیح خدا بن گیا یا ہے خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہ وہ اہم دلائل ہیں کہ جوہ کا سر صلیب سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے الوہیت مسیح کے باطل عقیدہ کے رد میں بیان فرمائے ہیں۔اس ضمن میں حضور علیہ السّلام کا ایک جامع نوٹ بھی ہے جو ذیل میں درج کرتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں :- جس حالت میں ایک طرف تو حضرت مسیح اپنے کفر کی بریت ثابت کرنے کے لئے یوحنا باب۔امیں اپنے تئیں خدا اطلاق پانے میں دوسروں کا ہم رنگ قرار دیں اور اپنے تئیں لاعلم بھی قرار دیں کہ مجھے قیامت کی کچھ خبر نہیں کہ کب آئے گی اور یہ بھی روا نہ رکھیں کہ ان کو کوئی نیک کہے اور جابجا یہ فرما دیں کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجا گیا ہوں اور حوالہ یوں کو یہ نصیحت دیں کہ پیش گوئیاں وغیرہ امور کے وہی معنی کرو جو یہودی الدار الاسلام من حاشیه رانی خزائن جلد 9 : سه :- انوار الاسلام من حاشیه رمانی خزائن جلد 9 :