کسر صلیب — Page 234
۲۳۴ : انسان کا یہ کام نہیں کہ وہ خدا بن جاوے تو پھر اسے ایسے نمونے کیوں دئے جاتے ہیں ؟ جب کسی کو کوئی نمونہ دیا جاتا ہے تو اسی نمونہ دینے والے کا یہ منشا ہوتا ہے کہ اس نمونہ کے رنگ میں رنگین ہونے کی کوشش کی جاد سے اور پھر وہ اس شخص کی طاقت میں بھی ہوتا ہے کہ (وہ) اس نمونے کے مطابق ترقی کر سکے۔خدا جو فطرت انسانی کا خالق ہے۔اور اسے انسانی قویٰ کے متعلق پورا علم ہے اور کہ اس نے انسانی قوی میں یہ مادہ ہی نہیں رکھا کہ خدا بھی بن سکے تو پھر کیوں اس نے ایسی صریح غلطی کھائی کہ جس کام کے کرنے کی طاقت ہی انسان کو نہیں دی۔اس کام کے کرنے کے واسطے اسے مجبور کیا جاتا۔کیا یہ ظلم صریح نہ ہوگا۔رسالت اور نبوت کے درجہ تک تو انسان ترقی کر سکتا ہے کیونکہ وہ انسانی طاقت میں ہے۔پس اگر حضرت مسیح خدا تھے تو ان کا آنا ہی لا حاصل بھرتا ہے یہ لے پس اس دنیل کا خلاصہ یہی ہے کہ اگر حضرت مسیح علیہ السلام کو خدا مانا جائے توان کا دنیا میں آنا ایک بے فائدہ کام ٹھہرتا ہے۔اور اس طرح ان کو بھیجنے والے خدا کے علم اور حکمت پر بھی نزد پڑتی ہے پس عقل کی رو سے حضرت مسیح علیہ السلام کا خدا ہوتا باطل ہے۔ایک وضاحت عیسائیوں کے سامنے جب الوہیت میسج کی تردید کے یہ دلائل رکھے جاتے ہیں تو وہ لاجواب ہو کر راہ فرار اختیار کرتے ہوئے کہہ دیتے ہیں کہ ہم حضرت مسیح علیہ السّلام کی دو حیثیتیں مانتے ہیں۔ایک مسیح انسان کی اور دوسری مسیح خدا کی۔مسیح دیکھنے میں عام انسانوں کی طرح انسان بھی تھا۔لیکن اقنوم ثانی مینی ابن کے ساتھ اختلاط کی وجہ سے ابن اللہ بھی تھا اور بناء بریں خدا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عیسائیوں کی ان تاویلات رکیکہ کا کڑا محاسبہ فرمایا ہے۔آپ کے دو حوالے ذیل میں درج کرتا ہوں ، جوان تاویلات کی حقیقت واضح کر دیتے ہیں۔فرمایا :- (1) " یہ قول ان کا سرامہ فضول اور نفاق اور دروغ گوئی پر مبنی ہے جو وہ کہتے ہیں کہ ہم : ملفوظات جلد دهم ۲۲۲۰ ۲۲۳ :