کسر صلیب

by Other Authors

Page 236 of 443

کسر صلیب — Page 236

۲۳۶ کیا کرتے ہیں۔اور ان کی باتوں کو سنو اور بانو۔اور پھر ایک طرف مسیح کے مجرت ابھی دوسرے نبیوں کے معجزات سے مشابہ ہوں بلکہ ان سے کسی قدر کم ہوں بوجہ اس تالاب کے قصہ کے۔۔۔۔۔۔۔جس میں غسل کرنے والے اسی طرح طرح طرح کی بیماریوں سے اچھے ہو جایا کرتے تھے جیسا حضرت مسیح کی نسبت بیان کیا جاتا ہے۔اور پھر ایک طرف گھر میں پھوٹ پڑی ہوئی ہو۔ایک صاحب حضرات عیسائیوں میں سے تو حضرت مسیح کو خدا ٹھہراتے ہیں۔اور دوسرا فرقہ ان کی تکذیب کر رہا ہے۔ادہر یہودی بھی سخت مکذب ہوں اور عقل بھی ان نا معلوم خیالات کے مخالف ہو اور پھر وہ آخری نبی جنسی صد با دلائل اور نشانوں سے ثابت کر دیا ہو کہ میں سچاہتی ہوں تو پھر باوجود اس قدر مخالفانہ ثبوتوں کے ایک خاص فرقہ کا خیال اور وہ بھی بے ثبوت کہ ضرور حضرت مسیح خدا ہی تھے کسی کام آسکتا ہے اور کس عزت دینے کے لائق ہے " سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بیان فرمودہ ان دلائل و براہین پر یکجائی نظر کر نے سے الوہیت مسیح کے عقیدہ کی حقیقت طشت ازبام ہو جاتی ہے۔اور صداقت آفتاب نیم روز کی طرح چھلکنے لگتی ہے کہ حضرت مسیح ناصر علیہ السلام ہرگز ہر گز ندانہ تھے۔بلکہ وہ پچھے خالق و مالک خدا کے ایک نبی اور رسول تھے۔عیسائیوں نے حضرت مسیح کے ساتھ نادان دوست کا سا سلوک کیا ہے جو ان کو خواہ مخواہ خدا بنا دیا ہے حضرت مسیح علیہ السلام نے خود کبھی اور کسی جگہ خدا ہونے کا دعویٰ تک نہیں فرمایا۔لیکن اب عیسائی نہ بر دستی ان کو خدا بنا کر ہے ہیں اور ہر روز اعتراضات کا نشانہ بنتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس باطل عقیدہ کے اختیار کرنے کے نتیجہ میں عیسائیوں پر وار د ہونے والے اعتراضات کے بارہ میں کیا خوب فرماتے ہیں :- " بے چارے عیسائی جسے ابن مریم کو خدا بنا بیٹھے ہیں بڑی بڑی مصیبتوں میں پڑسے ہوئے ہیں۔کوئی دن ایسا نہیں ہوگا کہ خود انہی کی روح ان کے اس اعتقاد کو نفر سے نہیں رکھتی ہوگی یا نہ " بالآخر مسیح پاک علیہ اسلام کے اس حوالہ پر اس باب کو ختم کرتا ہوں۔حضور فرماتے ہیں :- اسے عیسائیو ا یاد رکھو کہ مسیح ابن مریم ہرگز ہرگز خدا نہیں ہے۔تم اپنے نفسوں پر ظلم مت کرو۔خدا کی عظمت مخلوق کو مت دو۔ان باتوں کے سننے سے ہمارا دل کا نپتا ہے کہ تم ایک مخلوق ضعیف درماندہ کو خدا کر کے پکارتے ہو۔سچے خدا کی طرف آجاؤ تا تمہارا بھلا ہو اور تمہاری عاقبت بخیر ہو " :- جنگ مقدس مشت جلد : سے : ست بیچن ما : ۱۹۳ کتاب البرية من جلد ۱۳ : : ماه: