کسر صلیب — Page 221
۲۲۱ پس ثابت ہوا کہ جب ابن اللہ کے لفظ سے کبھی حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی اپنی الوہیت کا استدلال نہیں کیا تو کسی اور کا اس لفظ کو الوہیت کی بنیاد قرار د سے دنیا کس قدر بعید از عقل ہے۔سکا سترھویں دلیل الوہیت مسیح علیہ السلام کے رد میں ایک اور دلیل یہ ہے کہ ان کے قول اور فعل میں تضاد پایا جاتا ہے۔خدا کی شان یہ ہے کہ اسکی قول و فعل میں یا دو اقوال میں کوئی تضاد یا اختلاف نہیں ہوتا۔اس کا علم کامل اور ازلی ابدی ہوتا ہے۔وہ حکیم ہے پس اس کے قول اور فعل کے آپس میں متضاد ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔یہ اصول سب اہل مذاہب نے درست تسلیم کیا ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام کی زندگی میں یہ بات نظر نہیں آتی۔پس وہ خدا نہیں ہو سکتے۔اس اصول کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :۔یہ بات نہایت معقول ہے کہ خدا کا قول اور فعل دونوں مطابق ہونے چاہئیں یعنی اور پس رنگ اور طرز پر دنیا میں خدا تعالیٰ کا فعل نظر آتا ہے ضرور ہے کہ خدا تعالیٰ کی سچی کتاب اپنے فعل مطابق تعلیم کہ سے ندیہ ک فعل سے کچھ اور ظاہر ہوا در قول سے کچھ اور ظاہر ہوا ہے کہ قول و فعل اور دو اقوال میں تضاد کی تفصیل یہ ہے کہ ایک موقع پر حضرت مسیح علیہ السلام نے بقول عیسائی حضرات خدا ہونے کا دعویٰ کیا ہے لیکن دوسری جگہ وہ اقرا نہ کرتے ہیں کہ قیامت کا علم کسی کو نہیں صرف باپ کو ہے۔اگر ان میں اور باپ میں کوئی تفریق نہ تھی تو اس انکار کے کیا معنے ؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : " خُدا کے لئے تو یہ ضرور ہے کہ اسکی افعال اور اقوال میں تناقض نہ ہو۔حالانکہ انجیل میں صریح تناقض ہے۔مثلاً مسیح کہتا ہے کہ باپ کے سوا کسی کو قیامت کا علم نہیں ہے اب یہ کیسی تعجب خیز بات ہے کہ اگر باپ اور بیٹے کی عینیت ایک ہی ہے تو کیا مسیح کا یہ قول اس کا مصداق نہیں کہ دروغ گو را حافظه نباشد - کیونکہ ایک مقام پر تو دعوی خدائی اور دوسرے مقام پر الوہیت کے صفات کا انکاری ہے پھر حضرت مسیح علیہ السلام کے اپنے قول و فعل میں بھی باہم تضاد پایا جاتا ہے۔جو خدا کی شان سے بعید ہے مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ میں ملاحظہ ہو :- ہے : :- چشمه سیحی ملات ۱۵ روحانی خزائن جلد ۲۰ : ملفوظات جلد سوم ۱۳ ۱۳۱ +