کسر صلیب

by Other Authors

Page 217 of 443

کسر صلیب — Page 217

۳۱۷ حقیقت اور مجاز میں باہم تفریق کرنے کے ہم مجاز نہیں ہو سکتے کہ کہ دیں کہ یہاں تو حقیقت مراد ہے اور فلاں جگہ مجاز ہے۔یہی لفظ یا اس سے بھی بڑھ کر جب دوسرے انبیاء اور راستبازوں اور قاضیوں پر بولا جا دے تو وہ نرسے آدمی رہیں اور مسیح پر بولا جاؤ سے تو وہ خود خدا اور ابن بن جاویں یہ تو انصاف اور راستی کے خلاف ہے ؟" لے اسی ضمن میں فرمایا :- یہ جو کہا جاتا ہے کہ انجیل میں مسیح پہ بیٹے کا لفظ آیا ہے اس کے جواب میں ہمیں یہ کہنے کی کوئی ضرورت نہیں کہ انجیل محترف یا مبدل ہے۔بائبل کے پڑھنے والوں سے یہ ہر گز مخفی نہیں ہے کہ اس میں بیٹے کا لفظ کس قدر عام ہے اسرائیل کی نسبت لکھا ہے کہ اسرائیل فرزند من است نخست زاده من است اب ایسی بڑھ کر اور کیا ہو گا اور خدا کی بیٹیاں بھی بائیل سے تو ثابت ہوتی ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ خدا کا اطلاق بھی ہوا ہے کہ تم خدا ہو۔اس سے زیادہ اور کیا ثابت ہوگا۔اب ہر ایک منصف مزاج دانشمند غور کر سکتا ہے کہ اگر ان کا لفظ عام نہ ہوتا تو تعجب کا مقام ہوتا لیکن جبکہ یہ لفظ عام ہے اور آدم کو بھی شجرہ ابناء میں داخل کیا گیا ہے اور اسرائیل کو نخست زادہ بتایا گیا ہے اور کثرت استعمال نے ظاہر کر دیا ہے کہ مقدسوں اور راستبازوں پر یہ لفظ حسن ظن کی بناء پر بولا جاتا ہے۔اب جب تک مسیح پر اس لفظ کے اطلاق کی خصوصیت نہ بتائی جاؤ سے کہ کیوں اس اہنیت میں وہ سار سے راستبانہوں کے ساتھ شامل نہ کیا جاؤ ہے۔اس وقت تک یہ لفظ کچھ بھی مفید اور موثر نہیں ہو سکتا۔کیونکہ جب یہ اور لفظ عام اور قومی محاورہ ہے تو مسیح پر ان سے کوئی نرالے معنے پیدا نہیں کر سکتا۔میں اس لفظ کو مسیح کی خدائی یا بنیت یا الوہیت کی دلیل مان لیتا اگر یہ کسی اور کے حق میں نہ آیا ہوتا ہے نیز فرمایا : یہ تو دو رنگی ہے کہ مسیح کے لئے یہی لفظ آئے تو وہ خدا بنایا جا وے اور دوسروں پر اس کا اطلاق ہو تو وہ بند ے کے بند سے " سے عیسائی حضرات مسیح علیہ السلام کے حق میں ابن اللہ کے لفظ سے ان کی الوہیت کا استدلال لے : ملفوظات جلد سوم ص : ه: محفوظات جلد سوم ط سے : ايضا