کسر صلیب — Page 155
100 یہ حوالہ بھی روح القدس کا مقام باپ کے مقام سے کم نہ ثابت کرتا ہے۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس دلیل کو بھی اپنی تحریرات میں بیان فرمایا ہے کہ جب تینوں اقنوموں میں برابری اور یکسانیت نہیں تو واضح ہے کہ تینوں خدا نہیں ہو سکتے۔اگر ان میں سے ہی کوئی خدا مانا جائے تو صرف وہ ہوگا جو دوسروں سے بالا ہوگا۔ظاہر ہے کہ اس صورت میں تثلیث کا سارا عقیدہ باطل ہو جاتا ہے۔مذکورہ بالا حوالہ کے ضمن میں حضور علیہ السلام جنگ مقدس میں فرماتے ہیں :- حضرات عیسائی صاحبان اس جگه له ورح حق سے مراد روح القدس لیتے ہیں۔یہ اس طرف توجہ نہیں فرماتے کہ بروح القدس تو ان کے اصول کے موافق خدا ہے تو پھر وہ کسی سے سنے گا کیا مسیح کے متعلق جب باپ سے کم تر ہونے کے الفاظ آتے ہیں تو مسیحی یہ کہ کر تاویل کرتے ہیں کہ یہ الفاظ مسیح انسان کے متعلق ہیں اور مسیح کامل انسان بھی ہے اور کامل خدا بھی۔اب کیا روح القدس کے متعلق بھی یہی تاویل ہو سکتی ہے ؟ الغرض مسیحی بیانات سے ثابت ہوتا ہے کہ تینوں اقانیم کے درجہ میں برابری نہیں اور یہ امر تثلیث کے عقیدہ کو باطل قرار دیتا ہے۔کیونکہ ان تینوں کا co-equal اور Coeternal ہونا ایک بنیادی امر ہے۔سولهوت بيك تثلیث کے باطل عقیدہ کے رد میں ایک اور دلیل یہ ہے کہ تثلیث کی ابتداء اور ایجاد ایک یسے شخص کی طرف منسوب کی جاتی ہے جو ہر گز قابل اعتماد اور قابل استناد نہیں ہے۔حضرت مسیح موجود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ موجودہ مسیحیت جو تثلیث اور کفارہ کے اہم عقائد کو پیش کرتی ہیں۔یہ حضرت مسیح کی اصل تعلیم نہیں ہے بلکہ ایک شخص پولوس نامی کی ایجاد اور اختراع ہے۔چنانچہ حضور فرماتے ہیں :- " یاد رکھنا چاہیئے کہ یہ مذہب جو عیسائی مذہب کے نام سے شہرت دیا جاتا ہے۔دراصل پولوسی مذہب ہے نہ مسیحی کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس اہم اصول اور نظریہ کو جو در حقیقت موجودہ عیسائیت ے :۔چشمہ مسیحی مانی روحانی خزائن جلد نمبر ۲۰