کسر صلیب

by Other Authors

Page 148 of 443

کسر صلیب — Page 148

۱۴۸ اس دلیل کو سیدنا حضرت مسیح پاک علیہ السلام نے جنگ مقدس میں بیان فرمایا ہے۔اور یہ استدلال فرمایا ہے۔کہ اگر تینوں وجودوں میں برابر صفات تسلیم کی جائیں تو ان میں ایک حقیقی تفریق پیدا ہو جاتی ہے۔جس کی وجہ سے ان میں ماہیت کا اتحاد پیدا نہیں ہو سکتا۔پس یہ عقیدہ ہی باطل ہے کہ تین وجود بیک وقت صفات میں درجہ کمال رکھتے ہوں۔آپ فرماتے ہیں :- جبکہ یہ تینوں شخص اور تینوں کامل اور تینوں میں ارادہ کرنے کی صفت موجود ہے اب ارادہ کرنے والا، ابن ارادہ کرنے والا۔روح القدس ارادہ کرنے والا۔تو پھر ہمیں سمجھاؤ کہ باوجود اس حقیقی تفریق کے اتحاد ماہیت کیونکر ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ ان میں تقسیم کا ر ہے یا ان میں صفات کی ایسی تقسیم ہے جس سے ٹکراؤ کی صورت پیدا نہیں ہوتی تو پھر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ پھر وہ کامل کسی لحاظ سے ہوائے۔بلکہ ناقص ثابت ہوئے اور جو ناقص ہو وہ خدا نہیں ہوسکتا۔کیونکہ یہ بات تو سب کو تسلیم ہے کہ خدا میں کوئی نقص نہیں ہو سکتا ہے۔اور نہ اس میں کوئی کمی ہو سکتی ہے کہ وہ دوسرے کی مدد یا تعاون کا محتاج ہو ہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام عیسائیوں کے اس عقیدہ کی رو سے ان کے خدا کے متعلق فرماتے ہیں:۔" یہ سہ گوشہ خدا بھی عجیب ہے۔ہر ایک کے کام الگ الگ ہیں گویا ہر ایک بجائے خود ناقص اور نا تمام ہے اور ایک دوسرے کا ستم ہے " ہے ظاہر ہے کہ ایسا وجود جو ناقص اور نا تمام ہو خدا نہیں ہو سکتا ہے اور جب تثلیث کا کوئی ایک پہلو بھی گر جائے تو ساری تثلیث باطل ہو جاتی ہے۔دسویں دلیل عیسائی عقیدہ کے مطابق تینوں خدائی اتا نیم میں سے ہر قوم اپنی جگہ کامل ہے۔اس پر یہ اعتراض پیدا ہوتا ہے کہ اگر تینوں خدا واقعی اپنی جگہ پر کامل ہیں اور حقیقی کمال کا اطلاق ان پہ ہو سکتا ہے تو لازمی طور پر ان تینوں کے ملنے سے ایک ایسا وجود بننا چاہیئے جو ان تینوں سے بڑھ کر کمال اپنے اند در رکھتا ہو۔گویا الکل ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السّلام فرماتے ہیں :- کہ حضرات عیسائی صاحبان کا یہ عقیدہ ہے کہ باپ بھی کامل ، اور بیٹا بھی کامل اور روح القدس بھی کامل۔اب جب تینوں کامل ہوئے تو ان تینوں کے ملنے سے اکمل ہونا :- جنگ مقدس صله ارحانی خزائن جلد سے ملفوظات جلد اول من ۳۳