کسر صلیب

by Other Authors

Page 100 of 443

کسر صلیب — Page 100

سوئیں تمام دنیا کو خوشخبری دیتا ہوں کہ یہ نہ ندوہ خدا اسلام کا خدا ہے اس اشتہار دینے کی اصل غرض یہی ہے کہ جس مذہب میں سچائی ہے وہ کبھی اپنا رنگ نہیں بدل سکتی۔جیسے اول ہے ویسے ہی آخر ہے۔سچا مذہب کبھی خشک قصہ نہیں بن سکتا۔سو اسلام سچا ہے۔میں ہر ایک کو کیا عیسائی کیا آریہ اور کیا یہودی اور کیا بہر ہو اس سچائی کے دکھلانے کے لئے بلاتا ہوں کیا کوئی ہے جو زندہ خدا کا طالب ہے۔ہم مردوں کی پرستش نہیں کرتے۔ہمارا خدا زندہ خدا ہے وہ ہماری مدد کرتا ہے۔وہ اپنے کلام اور الہام اور آسمانی نشانوں سے ہمیں مدد دیتا ہے۔اگر دنیا کے اس میرے سے اُس سیر سے تک کوئی عیسائی طالب حق ہے تو ہمار سے زندہ خدا اور اپنے مردہ خُدا کا مقابلہ کر کے دیکھ لے۔لیکن سچ سچ کہتا ہوں کہ اس باہم امتحان کے لئے چالیں ! دن کافی ہیں یا اے پھر ایک جگہ آپ فرماتے ہیں : اب دیکھنا چاہیے کہ کونسا مذہب اور کونسی کتاب ہے جس کی ذریعہ سے یہ غرض حاصل ہو سکتی ہے۔انجیل تو صاف جواب دیتی ہے کہ مکالمہ اور مخاطبہ کا دروازہ بند ہے اور یقین کرنے کی راہیں مسدود ہیں اور جو کچھ ہوا وہ پہلے ہو چکا اور آگے کچھ نہیں۔مگر تعجب کردہ خدا جو اب تک اس زمانہ میں بھی سنتا ہے وہ اس زمانے میں بولنے جوابه سے کیوں عاجزہ ہو گیا ہے ؟ کیا ہم اس اعتقاد پر تسلی پکڑ سکتے ہیں کہ پہلے کسی زمانہ ہیں میں وہ بولتا بھی تھا اور سنتا بھی تھا مگر اب وہ صرف سنتا ہے مگر بولتا نہیں۔ایسا خدا کس کام کا جو ایک انسان کی طرح جو بڑھا ہو کر بعض توئی اس کے بیکار ہو جاتے ہیں۔ابتدا ہو نہ مانہ کی وجہ سے بعض قو می اس کے بھی بیکا نہ ہو گئے اور نیز ایسا خدا کس کام کا کہ جب ٹک ٹکٹکی سے باندھ کر اس کو کوڑے نہ لگیں اور اس کے منہ پر نہ تھو کا جائے اور چند روز اس کو حوالات میں نہ رکھا جائے اور آخر اس کو صلیب پر نہ کھینچا جائے تب تک وہ اپنے بندوں کے گناہ نہیں بخش سکتا۔ہم تو ایسے خُدا سے سخت بیزان ہیں جس پر ایک ذلیل قوم یہودیوں کی جو اپنی حکومت بھی کھو بیٹھی تھی غالب آگئی۔ہم اس خدا کو سچا خدا مانتے ہیں جس نے ایک مکہ کے غریب دیے کس کو اپنا نبی بنا کہ اپنی ه اشتهار ۱۴ جنوری ۶۱۸۹۷ :