کشمیر کی کہانی — Page 72
صدر محترم کے سٹیج پر پہنچتے ہی اس ٹولی نے اپنی کمینگی اور شرارت کا انتہائی مظاہرہ کرنا اور بہت زور سے پتھر برسانا شروع کر دیئے۔میں اُس وقت آپ سے صرف تین فٹ کے فاصلہ پر تھا۔ہندوستان کے کرکٹ کے مشہور کھلاڑی سید عبدالسلام مرحوم آپ کے سامنے کھڑے ہو گئے۔جو پتھر آتا۔کمال مستعدی سے اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر نیچے پھینکتے جاتے۔ہرممکن احتیاط کے باوجود تین پتھر کشمیریوں کے اس محسن کو بھی لگے۔جس نے اپنی ابتدائی عمر ہی سے ان مظلوموں کی امداد شروع کر رکھی تھی۔۔یہ سلسلہ ایک گھنٹہ تک جارہی رہا۔اس عرصہ میں ان ظالم اور سفاک فتنہ پرداز ہاتھوں سے چھوٹے چھوٹے معصوم بچے بھی زخمی ہوئے۔مگر یہ نظارہ بھی دیکھنے کے لائق تھا۔کہ جب پتھروں کو بارش پورے زور پر تھی۔کوئی شخص اپنی جگہ سے اُس وقت بھی نہیں ہلا۔اور تمام لوگ صبر وسکون کے ساتھ پتھر کھاتے اور نعرہ ہائے تکبیر بلند کرتے رہے۔پھپیں تھیں افراد شدید زخمی ہوئے۔معمولی زخم تو سینکڑوں کو پہنچے۔شدید زخمیوں کو موٹروں پر ہسپتال پہنچایا جارہا تھا۔کہ انہی لوگوں نے ایک موٹر پر پتھر برسا کر اُس کے شیشے بھی تو ڑ دیئے۔نظم و نسق کو الٹی میٹم اب ظلم کی حد ہو چکی تھی۔انتہائی صبر وسکون کا نمونہ پیش کیا جا چکا تھا۔ہزاروں کا مجمع نہایت جوش کی حالت میں تھا اور اگر ان کے محترم لیڈر کی طرف سے مسلسل اور متواتر صبر وسکون کے ساتھ ( اپنی جگہ پر بیٹھے رہنے کی ہدایت نہ ہوتی تو چند منٹوں میں ان کرائے کے شورہ پشتوں کو ایسا سبق دیتے کہ وہ آئندہ ایسی حرکات کے ارتکاب کی جرات نہ کرتے صدر محترم نے اپنے سیکرٹری مولا نا عبد الرحیم در کوڈ پٹی کمشنر کے پاس بھجوایا یہ کہ کر 76