کشمیر کی کہانی — Page 71
چنانچہ ریاست کے ان نمک خواروں نے عین تلاوت کے دوران ہی میں ہاؤ ہو“ شروع کر دی یوں کہ ان میں سے ایک بیٹھے ہوئے آدمیوں کے پاس جا کھڑا ہوتا۔دوسرا اُس کے دھکا دیتا۔اور گرنے والا شور مچادیتا پولیس موقع پر موجود تھی۔اُس نے ان شر پسندوں کو دھکیل کو مجمع سے پیچھے کر دیا۔صدر محترم ( آل انڈیا کشمیر کمیٹی ) ابھی جلسہ گاہ میں تشریف نہیں لائے تھے۔ہم بھی آپ کے ساتھ ہی جلسہ گاہ جانے کے لیے تیار کھڑے تھے۔کہ شہر کے چند شرفاء آئے اور عرض کی کہ کچھ فتنہ پرداز فساد پر آمادہ ہیں۔اس لیے مناسب ہوگا کہ آپ جلسہ گاہ میں تشریف نہ لے جائیں مبادا وہ بد باطن کوئی نقصان پہنچائیں لیکن آپ اس خطرہ کی ذرہ بھی پروانہ کرتے ہوئے اسی وقت جلسہ گاہ کی طرف روانہ ہو گئے۔آپ اور آپ کے ہمراہی دوکاروں میں جائے رہائش سے روانہ ہوئے ابھی جلسہ گاہ سے ہم لوگ کچھ دور ہی تھے کہ چند مخلصین نے آکر اطلاع دی کہ اب ان فسادیوں نے جلسہ گاہ پر پتھر برسانے شروع کر دیے ہیں۔آپ پتھروں کی اس شدید بارش میں سٹیج پر پہنچے اور آتے ہی سارے مجمع کو ہدایت کی کہ ہماری فتح اسی میں ہے کہ ہم ان شر پسند عناصر کی دہشت سے مرعوب نہ ہوں۔اور نہ ہی مشتعل ہوں۔تمام احباب اپنی اپنی جگہ پر بیٹھے رہیں۔بالکل نہ ہلیں۔اور جو شخص پتھروں سے زخمی ہو جائے۔اُسے مرہم پٹی کے لیے سٹیج کے پیچھے لے آئیں پھر ڈاکٹروں اور ڈریسروں کو مخاطب کر کے تحریک کی۔کہ وہ فوراً دوسری طرف جمع ہو جائیں اور اپنا کام شروع کر دیں۔فرسٹ ایڈ کا سامان مہیا کر دیا گیا۔دوسری طرف لوکل کشمیر کمیٹی کے بعض معزز اراکین نے سپر نٹنڈنٹ پولیس اور ڈپٹی کمشنر کو اطلاع دی۔اور وہ بھی اس ہنگامہ خیزی کے بچشم خود ملاحظہ کے لئے کار کے ذریعہ وہاں پہنچ گئے۔75