کشمیر کی کہانی — Page 70
۔اور اس کا اعلان سارے شہر میں کر دیا گیا۔اس پارٹی نے (جس کا ذکر اوپر آیا ہے ) اس موقع کو غنیمت جانا۔ایک طرف ریاستی حکام کو خوش کرنے کے لئے جو صدر محترم کی آمد پر حالات کا جائزہ لینے کے لیے سیالکوٹ آئے ہوئے تھے اور دوسری طرف اپنا نام پیدا کرنے کے لیے اس قول کے مطابق کہ۔۔۔۔۔بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا دیا تھا کہ یہ فیصلہ کیا۔کہ اس جلسہ میں اپنے گرو کی نصیحت پر عمل کریں۔جس نے انہیں کا یہ سبق اپنی پگڑی پہلے ہی بغل میں دابے پھرتے ہیں اور دوسروں کی اُچھل جائے تو افسوس نہیں کرتے۔( تاریخ احرار صفحہ (41) ان معلمین اخلاق فاضلہ نے کرایہ پر چند ” بھلے مانسوں“ کی خدمات حاصل کیں اخراجات تو بہ ہر حال ریاست کے کارندوں نے ادا کرنے ہی تھے۔۔۔۔ان کو اس بات کی تربیت دی گئی۔کہ جب اسٹیج تیار ہو جائے فوراً اسٹیج پر قبضہ کر لو اگر کوئی مزاحمت کرے تو ہاتھوں سے سیدھا کر دو۔اور جب فتحمند ہو جاؤ۔تو فوراً ہمیں اطلاع دو۔ہم پہنچ جائیں گے اور کشمیر کمیٹی کی بجائے ”ہماری پارٹی کا جلسہ ہوگا۔لیکن۔۔۔۔۔جسے اللہ رکھے اُسے کون چکھے۔۔ہوا یہ کہ جلسہ کا وقت نو بجے رات مقرر تھا لیکن لوگ آٹھ بجے سے جوق در جوق جلسہ گاہ میں آنا شروع ہو گئے۔اور اسٹیج کے گرد بیٹھ گئے تھے۔دوسری طرف ہندو کانگرس کے نمک خوار لوگوں کے تیار کردہ سور مے اکل وشرب میں ایسے محو ہوئے کہ سٹیج پر قبضہ کا وقت نکل گیا۔اور یہ لوگ جلسہ گاہ میں اس وقت پہنچے۔جب اس جلسہ کا مقامی صدر صدارت سنبھال چکا تھا۔اور ایک حافظ صاحب تلاوت کلام پاک کر رہے تھے۔اُن کی بلا سے کہ خدا کا کلام پڑھا جارہا ہے۔انہیں تو جلسہ خراب کرنے سے غرض تھی 74