کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 60 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 60

کرتے کمیٹی کو ایک با اثر نمائندہ کی ضرورت تھی۔جو انگلستان میں رہ کر یہ کام کرتا صدر محترم کو یہ سہولت بھی میسر تھی کہ ان کے نمائندے ہر ملک میں موجود تھے خاں صاحب مولانا فرزند علی لندن میں امام تھے اور پارلیمنٹ کے حلقوں اور پریس میں احترام کی نظروں سے دیکھے جاتے تھے۔ان کو ہر بڑی تقریب میں مدعو کیا جاتا تھا۔اس لیے ان کی واقفیت بھی وسیع ہو چکی تھی۔انہیں شملہ سے ہی کشمیر کے متعلق پوری معلومات ارسال کر کے کام کے متعلق ہدایات دے دی گئیں۔چنانچہ انگلستان میں بھی پورے زور سے کشمیر کے متعلق کام شروع ہو گیا اور پارلیمنٹ میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا نہ صرف ذکر آیا بلکہ سوالات تک پوچھے گئے اور پارلیمنٹ کے بعض ممبروں نے ہر طرح کی امداد کا وعدہ کیا۔کشمیر ڈے ۱۴ /اگست کو کشمیر ڈے منانے کا اعلان ہو چکا تھا۔حکومت ہند اور حکومت کشمیر بڑے غور سے اس اعلان کے ردعمل کا انتظار کر رہی تھیں۔اُدھر صدر کمیٹی کی دور بین نگاہ بھی اس چیز کو بھانپ رہی تھی۔لہذا اس دن کو کامیاب بنانے کے لیے اخبارات میں متواتر نوٹ بھجوائے جارہے تھے اور کشمیریوں کے ہمدردوں کو خطوط کے ذریعہ تعاون کی تحریک کی جارہی تھی مجھے یاد ہے کہ ہم جتنے روز شملہ میں رہے رات کے دو بجے سے پہلے کبھی کام ختم نہ ہوتا تھا۔اس لیے کہ آج کا کام کل پر ڈالنے کا سبق ہمارے اُستاد نے ہمیں پڑھایا ہی نہ تھا۔۱۴ اگست کو کشمیر ڈے پورے اہتمام کے ساتھ منائے جانے کے متعلق صدر محترم کا ایک مفصل مضمون شملہ ہی سے تمام اخبارات کو بھجوا دیا گیا۔جسے اکثر اخبارات نے بہت نمایاں کر کے شائع کیا اس میں ہندوستان کے تمام مسلمانوں کو مخاطب کر کے لکھا گیا تھا 64