کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 61 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 61

مسلمانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ اُنکے تمیں لاکھ بھائی ہے بے زبان جانوروں کی طرح قسم قسم کے ظلموں کا تختہ مشق بنائے جارہے ہیں۔جن زمینوں پر وہ ہزاروں سال سے قابض تھے ان کو ریاست کشمیر اپنی ملکیت قرار دے کر نا قابل برداشت مالیہ وصول کر رہی ہے۔درخت کاٹنے۔مکان بنانے۔بغیر اجازت زمین فروخت کرنے کی اجازت بھی نہیں۔اگر کوئی شخص کشمیر میں مسلمان ہو جائے۔تو اُس کی جائداد ضبط کرلی جاتی ہے بلکہ اہل وعیال تک ( اُس سے زبر دستی چھین کر ) الگ کر دیئے جاتے ہیں۔ریاست جموں و کشمیر میں جلسہ کرنے کی اجازت نہیں۔انجمن بنانے کی اجازت نہیں۔اخبار نکالنے کی اجازت نہیں۔غرض اپنی اصلاح اور ظلموں پر شکایت کرنے کے سامان بھی اُن سے چھین لیے گئے۔وہاں کے مسلمانوں کی حالت اس شعر کی مصداق ہے۔نہ تڑپنے کی اجازت ہے نہ فریاد کی ہے گھٹ کے مرجاؤں یہ مرضی مرے صیاد کی ہے جب اس صورتِ حالات کے خلاف جموں کے مسلمانوں نے ادب و احترام سے نہ کہ شرارت و شوخی سے ) مہاراجہ صاحب کے پاس شکایت کی تو بذریعہ تارجموں کے مسلمانوں کے نمائندوں کو بلوایا گیا۔کہ مہاراجہ صاحب کے پاس اپنی مفروضات پیش کریں۔لیکن کئی دن تک آج نہیں کل کرتے ہوئے ان کی شکایات سننے کی بجائے انہیں جیل خانہ میں ڈال دیا گیا۔جن میں سے کئی اب تک جیلوں میں پڑے سڑر ہے ہیں۔کشمیر کے اُن مسلمانوں کے سینے جو صرف ایک ہمدرد کشمیر کے مقدمہ 65