کشمیر کی کہانی — Page 59
ہوگئی۔پارلیمنٹ میں سوال ہونے شروع ہو گئے۔اگر ان سب باتوں کی تفصیل لکھی جائے۔تو کئی ضخیم جلدیں بن جائیں گے۔میں یہاں مشتے از خروارے کے طور پر اس کا صرف ہلکاسا خا کہ ہی پیش کئے دیتا ہوں۔(1) مجھے یقین ہے کہ اک نہ اک دن کوئی باہمت در دمند نو جوان ان تمام تفاصیل کو محفوظ کرنے کی توفیق بھی اپنے خدا سے ضرور پائے گا۔ظ۔۱) آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے قیام کے بعد صدر کمیٹی نے چند روز شملہ میں قیام کیا۔مولانا عبد الرحیم در دسیکرٹری کمیٹی نے پولیٹکل ڈیپارٹمنٹ کے ذمہ دار افسران اور پولیٹکل سیکرٹری سے ملاقات کی (جوان دنوں صوبہ جات کے گورنر کے برابر درجہ کا ہوتا تھا ) محترم درد صاحب کی ملاقات سے وہ اس قدر متاثر ہوا کہ صدر محترم سے ملاقات کے لیے خود ” فیر ویو میں آیا۔جہاں تفصیل سے تمام معاملات پر تبادلہ خیالات ہوا۔اس کے بعد جناب صدر وائسرائے ہند سے ملے۔اس طویل ملاقات میں کشمیر سے متعلق تمام معاملات وائسرائے ہند کے سامنے رکھے گئے۔گورنر پنجاب سے ملنا بھی ضروری تھا۔کیونکہ ریاست کی بیشتر حدیں اسی صوبہ سے ملتی تھیں آپ نے گورنر پنجاب سے بھی ملاقات کی۔سر سکندر حیات خاں ان دنوں گورنمنٹ میں ذمہ دار عہدہ پر فائز تھے۔انہوں نے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو کھانے پر مدعو کیا۔وہاں بھی کشمیریوں کے مطالبات کی وضاحت ہوئی اور یوں حکام کے حلقہ میں باشندگانِ ریاست کا نقطہ نظر بڑے ہی احسن طریق پر پیش ہو گیا اور حکومت ہند بھی پورے طور پر اس مسئلہ میں دلچسپی لینے لگی۔انگلستان میں بھی وائسرائے اور حکومت ہند کی تاریں تو دراصل انگلستان ہی سے ہلتی تھیں۔پارلیمنٹ کے ممبروں اور وہاں کے پریس کو اپنا ہمدرد بنانا ضروری تھا۔ایسے کام خط و کتابت سے نہیں ہوا 63