کشمیر کی کہانی — Page 41
مسلمانانِ کشمیر کے ساتھ روا رکھی جارہی تھیں۔آپ نے اس تار میں وائسرائے ہند کو یہ بھی لکھا کہ:۔وو۔۔۔دوسرے صوبوں کے مسلمانوں کی طرح پنجاب کے مسلمان بھی کشمیری مسلمانوں پر ان مظالم کو کسی صورت میں برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہو سکتے۔اگر حکومت ہند نے اس پر بھی مداخلت نہ کی تو مجھے خطرہ ہے کہ کہیں مسلمان انتہائی ظلم وستم کو برداشت کرنے کی طاقت نہ رکھتے ہوئے گول میز کانفرنس میں شمولیت سے انکار نہ کر دیں۔۔۔اس تار کا مضمون اخبارات کو بھی بھجوایا گیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ مسلم اخبارات نے اس کی تائید میں کثرت سے مقالات لکھے۔ساتھ ساتھ جلسوں کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔ریز ولیشن پاس ہوئے۔جن کی نقول تمام اخبارات میں شائع ہونے کے علاوہ افسران کو بھیجی جانے لگیں ایک متعصب خبر رساں ایجنسی نے جو غلط واقعات اخبارات کو بھجوائے تھے اس کی تردید کے ساتھ ساتھ مسلم پریس نے صحیح حالات بھی پبلک کے سامنے پیش کئے۔اب کوئی اخبار نہ شائع ہوتا تھا۔جس میں کشمیر کے واقعات کا تذکرہ نہ ہو۔۱۶ جولائی کو پھر گولی چلا دی گئی اس میں بھی ایک مسلمان شہید ہوا۔اس واقعہ سے متاثر ہو کر حافظ سلیم نے فی البد یہ کچھ شعر کہے جن میں یہ بھی تھا کروگے بند خطبہ اور روکو گے اذاں کب تک نہتوں پر چلیں گی ظالمو یہ گولیاں کب تک نہیں چلنے کی دریا میں کبھی یہ ناؤ کاغذ کی رہو گے ڈوگرو ! کشمیر میں تم حکمراں کب تک ہندوستان کے مسلمانوں کے دلوں میں اس وقت کس قدر جوش تھا۔اس کا پتہ مولانا محمد یعقوب طاہر کی اُس نظم سے چل سکتا ہے جو دنوں بہت مقبول ہوئی تھی اور کشمیر کے متعلق 45