کشمیر کی کہانی — Page 40
ارسال کی ہے کہ اگر ان شرارتی مسلمانوں کے خلاف فوری کاروائی نہ کی گئی تو نتیجہ خراب ہوگا۔اس کے ساتھ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ گورنمنٹ کشمیر پنجاب کے چند شرارتی اخبارات کے خلاف بھی کاروائی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔کاغذات تیار ہورہے ہیں۔( پرتاب ۳ جولائی دراصل یہ ریاست کو مشورہ تھا کہ وہ ایسا کرے) ریاستی حکومت کے ان پیدا کردہ حالات کی وجہ سے خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ کسی وقت بھی جنگ کا با قاعدہ بگل بج جائے گا اور حصول آزادی کے لئے مستقل جنگ شروع ہو جائے گی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔مستقل جنگ کا رنگل ۱۳ جولائی ۳۱ء کو مسٹر عبدالقدیر کا مقدمہ سرینگر جیل میں پیش ہونا تھا کا روائی سننے کے لئے ہزاروں کی تعداد میں مسلمان جمع ہو گئے ریاستی پولیس نے گولی چلا دی۔اکیس مسلمان شہید اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔مسلمانان سرینگر نے اس واقعہ کی اطلاع ریاست سے باہر اپنے ہمدردوں کو دینا چاہی مگر سنسر اس قدر سخت تھا کہ کامیابی نہ ہوئی۔اس پر انہوں نے اپنا ایک نمائندہ فوراً سیالکوٹ بھجوایا۔وہاں سے اس نے کشمیری مسلمانوں کے اس ہمدرد و محترم بزرگ کو تار کے ذریعہ سارے حالات کی اطلاع کر دی۔بزرگ محترم نے اسی وقت وائسرائے ہند کو تار دیا کہ:۔مہاراجہ نے تازہ اعلان کے بعد جس میں انہوں نے اپنی مسلم رعایا کوئی طرح دھمکیاں دی ہیں۔اس واقعہ کا ظہور پذیر ہونا صاف بتلاتا ہے کہ یہ سب کچھ عمداً کیا گیا ہے“۔اس تار میں اس محترم بزرگ نے تمام حق تلفیوں کا بڑی تفصیل سے ذکر کیا۔جو 44