کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 42 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 42

جلسوں میں خوب پڑھی جاتی تھی۔فرماتے ہیں:۔الحذر اے مسلم صید حوادث الحذر دیکھ برق اقتلو چپکی خدا را کر نظر دامن کشمیر پر دھبے پڑے ہیں خون کے اور تو سویا پڑا ہے اُف تیری غیرت کدھر تیری قوت سے تو مر حب بھی ہوا تھا سرنگوں ترے بازو سے تو تھا ٹکڑے ہوا خیبر کا در تیری ہیبت سے تھے لرزاں مالکان تخت وتاج تیرے دم سے آج کیوں تیرے رگوں کے خون میں حدت نہیں قیصر و کسری ہوئے زیر وزبر صولت فاروق اعظم کس لیے کس لیے ہے مُستر دشمنان بد گہر کی شان نمرودی تو دیکھ گولیوں سے چھید ڈالے سینہ وقلب و جگر ظالمان ہند نے توڑے ستم وہ الاماں گرگ بھی دانتوں تلے انگلی دبائیں دیکھ کر رقص بسمل منظر خونیں تماشا کر دیا اسیر حلقه زنجیر ظالموں کے ظلم نے دل پارا پارا کر دیا غم ملال تو نے گر جینا ہے دکھلا اپنی قوت کے کمال 46