کشمیر کی کہانی — Page 270
نے جس وقت معاہدہ کیا۔اس وقت آپ کی جماعت خالص اسلامی جماعت تھی۔اب ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ یہاں کے مسلمان بھی مسلمان جماعت ہوتے ہوئے دوسروں سے سمجھوتہ کریں۔نیشنل کانفرنس تو چند مذاہب کے لوگوں کی انجمن ہوگی۔اس کا قیام کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔بلکہ اس کا اپنا آئین ہوگا۔جسے چلانے کے لیے اس کے کارکن ذمہ دار ہوں گے۔ہندوستان میں ہندوؤں کی اکثریت ہے۔لیکن وہاں نیشنل کانگرس کے ساتھ ساتھ ہندومہاسبھا قائم ہے۔حالانکہ وہاں کے ہندو بہت ترقی یافتہ اور بیدار ہیں۔پھر ریاست میں بھی ہندوؤں کی سبھا ئیں ہیں اگر ہماری اپنی کوئی خالص سیاسی جماعت نہیں ہوگی تو ہم ایسے مہمان ہوں گے۔جن کا کوئی گھر نہیں ہوگا۔اور ظاہر ہے کہ ایسے مہمان کو کوئی قبول نہیں کرتا۔اگر نیشنل کانفرنس کا قیام ضروری ہے تو اسے نئی بنیادوں پر قائم کیا جائے نہ کہ مسلم کانفرنس کو مٹا کر اگر مسلم کانفرنس کو مٹا کر ایسا کیا گیا تو مسلمانوں میں تشت و افتراق پیدا ہو جائے گا“۔(اصلاح سری نگر ۱۶ جون ۱۹۳۹ء ) قرار داد کی تائید میں اللہ رکھا صاحب ساغر اور مرزا افضل بیگ نے بھی تقاریر کیں اور مخالفت میں غلام حیدر غوری نے تقریر کی۔جس کے بعد بحث کو ختم کرتے ہوئے صاحب صدر شیخ محمد عبد اللہ نے ایک لمبی تقریر کی اور رائے شماری پر کثرت رائے سے نہ کہ اتفاق رائے سے قرار داد منظور ہوئی۔رائے شماری کے وقت کئی نمائندگان غیر جانب دار بھی رہے۔یہ اجلاس (یعنی دوسرے روز کا ) اڑھائی بجے ختم ہوا۔274