کشمیر کی کہانی — Page 269
کشمیری پنڈتوں کی سیاست صرف ملازمتوں تک محدود ہے۔اس لیے ان سے اشتراک کی توقع رکھنا فضول ہے۔اور جو ہمارے ساتھ شامل ہورہے ہیں انہیں قوم کا اعتماد حاصل نہیں۔ان کو گھر کی تمام چیزیں دے دینا عقلمندی نہیں ہوگی۔قوت والے اور کمزور کا کوئی ساتھ نہیں۔کمزور لڑکھڑا کر گر جائے گا اور قوت والا فائدہ اُٹھاتا رہے گا۔جموں میں ہندو ساہوکار ہیں اور مسلم زمیندار ہیں۔ان کا اشتراک بھی ناممکن ہے۔راجپوتوں کا خیال ہے کہ وہ حکومت کر رہے ہیں اس لیے وہ اشتراک کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔اس لیے کوئی دوسری قوم تو ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھ رہی تو آپ لوگ کس طرح آگے بڑھ کر اپنی آرگنائزیشن کو ہی تبدیل کر رہے ہیں“۔(اصلاح سری نگر ۱۶؎ جون ۱۹۳۹ء) مولوی رفیع الدین صاحب کی تائیدی تقریر مولوی رفیع الدین صاحب نے چودھری حمید اللہ صاحب کی تائیدا اور اصل قرار داد کی مخالفت کرتے ہوئے فرمایا کہ:۔د مسلمان طبعی طور پر مذہب کا دلدادہ ہے۔اس لیے آنحضرت صلعم کی زندگی کے واقعات اور آیات کی تشریح صاف اور واضح الفاظ میں پیش کی جائے صلح حدیبیہ کے وقت رسول اللہ اللہ صاف طور پر اپنے آپ کو اللہ کا رسول اور اللہ کا بندہ تحریر فرماتے ہیں اور اپنے آپ کو مسلمان رکھ کر اور اپنی جماعت کی علیحدگی کو برقرار رکھ کر سمجھوتہ کرتے ہیں۔آنحضور 273