کشمیر کی کہانی — Page 175
شیخ محمد عبد اللہ کا جوابی بیان راقم الحروف کے ساتھ شیخ محمد عبد اللہ کے انٹرویو کی تفصیل جب اخبارات میں شائع ہوئی تو اُسی روزانہ اخبار نے (جس کا اوپر ذکر آچکا ہے ) اس پر خامہ فرسائی کو ضروری سمجھا۔اور ایک ادارتی نوٹ داغ دیا۔شیخ صاحب نے اس کے متعلق ایک مدلل بیان اس اخبار کو بغرض اشاعت بھجوایا۔جس میں لکھا کہ انہوں نے جو کچھ کہا تھا وہ بالکل درست ہے اور جو الزامات آپ کے اخبار نے لگائے ہیں وہ بے بنیاد ہیں اس بیان کو آپ نے اس طرح ختم کیا:۔رہا یہ کہ کشمیرکمیٹی نے یہاں ہمیشہ اپنے ہم وطن بھیجے جو جماعت قادیان کی طرف منسوب تھے تو اس کے متعلق گذارش ہے کہ انہوں نے کبھی یہاں مذہبی معاملات میں دخل نہیں دیا۔بلکہ اپنے فرائض منصبی ہی میں سرگرم رہے۔نیز ان کے بھیجنے والے وہ اہل سنت حضرات تھے جن کی دیانت وامانت آپ کے ہاں بھی مسلم ہے اور مجھے تو یقین ہے کہ سیاسی تعاون میں آپ کے ہاں بھی عقیدہ کوئی شرط نہیں“۔سمس کاشمیری محترم شمس کا شمیری نے اخبارات میں پراپیگنڈہ کا کام خوش اسلوبی سے جاری رکھا اور کشمیریوں کی تائید میں بیسیوں نوٹ لکھے۔ریاست سے آنے والی رپورٹوں کی اشاعت کا کام بھی کرتے رہے۔جس سے ہندوستان کے لوگوں کے دلوں میں کشمیریوں کی ہمدردی کا جذ بہ زندہ رہا۔179