کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 26 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 26

پڑھا لکھا مسلمان طبقہ ایک حد تک روشناس ہو چکا تھا۔چنانچہ فوراً آدمی بھجوا دیے گئے۔ہندو مہاشہ کے مقابلہ پر مسلم مباشہ اچھا وار کر سکتے تھے۔گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے“۔کے مصداق ہندومہاشہ کے مقابلہ پر مسلم مہاشے پر نظر پڑی اور پنجاب سے مہاشہ محمد عمر نامی ایک مستعد ( فاضل سنسکرت مسلم مبلغ کو وہاں بھیجوایا گیا۔جس نے اس حوصلہ اور جرات سے ہندو مہاشوں کو للکارا اور ہر مقام پر انہیں دلائل کے واروں سے ایسا عاجز کیا کہ انہیں یہ میدان چھوڑتے ہی بنی۔بیداری کے بہترین سال ۱۹۲۹ ء ۱۹۳۰۰ ء مسلمانان جموں و کشمیر کی بیداری سے بہترین سال شمار ہوتے ہیں۔کیونکہ غلامی کے خلاف اعلان اور جنگ آزادی کی تیاری کے یہ فیصلہ کن سال تھے۔اس کے بعدا ۱۹۳ ء میں تو اس جنگ کا با قاعدہ بگل بج گیا۔جس نے کتنے ہی مردہ دلوں میں زندگی کی لہر دوڑا دی۔مگر یہ سب کچھ ابھی تک ریاست کے اندر ہی ہو رہا تھا۔ریاست سے باہر ہندوستان کے لوگ اپنے ان بھائیوں سے (سوائے معدودے چند دردمند دلوں کے ) غافل تھے۔اور انہوں نے کبھی اپنے مظلوم کشمیری بھائیوں کی مشکلات کو سمجنے کی کوشش نہیں کی تھی۔سرایلیسین بینرجی کی علیحدگی سرائیلیین بینر جی کا ذکر آچکا ہے۔انہیں متاثر کرنے میں ممکن ہے بعض دوسرے عناصر نے بھی کام کیا ہو۔لیکن اس کی بڑی وجہ خلیفہ عبد الرحیم اور اُن کے دوتین ساتھیوں کی مساعی تھیں۔مسٹر بینر جی اگر چہ مسلمان نہ تھے۔لیکن انصاف پسند تھے۔انہوں نے اصلاح احوال کا ارادہ کیا۔لیکن مہاراجہ کے گرد خوشامدی لوگ جمع تھے۔انہوں نے مسٹر بینرجی کی پیش نہ جانے دی نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں ریاست جموں و کشمیر کی ملازمت سے علیحدہ ہونا پڑا۔30 30