کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 258 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 258

حسب سابق ہزاروں کی تعداد میں ریاست کے گوشہ گوشہ تک پہنچایا گیا۔یہ خط چونکہ اپنی افادیت کے لحاظ سے ان تمام نیک خواہشات کا ترجمان بھی ہے جو آپ کے دل میں ریاستی مسلمانوں کے لیے تھیں۔اور تاریخ حریت کشمیر کا ایک نایاب ورق بھی۔اس لیے میں اس کا بڑا حصہ من و عن یہاں درج کرنا مناسب خیال کرتا ہوں: میں نے جو کچھ اسلام سے سیکھا ہے۔وہ یہ ہے کہ ہمارا ہر ایک سمجھوتہ سچائی پر مبنی ہونا چاہیے۔یہ نہیں کہ ہم ظاہر میں کچھ کہیں اور باطن میں کچھ ارادہ کریں۔ایسے ارادوں میں جن میں سچائی پر بنا نہیں ہوتی کبھی حقیقی کامیابی نہیں ہوتی۔اور کم سے کم یہ نقص ضرور ہوتا ہے کہ آنے والی نسلیں خود اپنے باپ دادوں کو گالیاں دیتی ہیں۔اور وہ تاریخ میں عزت کے ساتھ یاد نہیں کئے جاتے۔پس میرے نزدیک کسی سمجھوتہ سے پہلے ایسے سب امور کا جو اختلافی ہوں مناسب تصفیہ ہونا چاہیے۔تا کہ بعد میں غلط فہمی اور غلط انہی سے اختلاف اور جھگڑا پیدا نہ ہو۔اس اصل کے ماتحت جب میں نے اس تحریک کا مطالعہ کیا تو مجھے اخباری بیانات سے کچھ معلوم نہیں ہو سکا کہ آیا مسلم و غیر مسلم کے سیاسی سمجھوتے کی مشکلات کو پوری طرح سمجھ لیا گیا ہے۔یا نہیں۔اور مسلم وغیر مسلم کے حقوق کے متعلق جو شکایات ہیں ان کو دور کرنے کی تدابیر کر لی گئی ہیں یا نہیں یہ ایک حقیقت ہے کہ قوموں کی جدو جہد دوغرضوں میں سے ایک کے لیے ہوتی ہے۔یا تو اس لیے کہ اس قوم نے کوئی پیغام دنیا تک پہنچا نا ہوتا ہے۔اس صورت میں وہ عواقب ونتائج کو نہیں دیکھا کرتی 262