کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 256 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 256

غیر مسلم کے امتیاز سے بلند ہو کر اور فرقہ واریت کو کا ملا ختم کر کے مل کر کام کرنا چاہیے۔اپنی اسی تقریر میں سب سے پہلی دفعہ شیخ صاحب نے ہر بالغ کے لیے حق رائے دہی اور مخلوط انتخابات کا مطالبہ کیا۔سالانہ کانفرنس کے ٹھیک تین ماہ بعد ۲۸ / جون ۱۳۸، کومسلم کا نفرنس کی ورکنگ کمیٹی کا اجلاس بلایا گیا اس اجلاس کا مقصد ( جو پانچ دن تک جاری رہا) مسلم کا نفرنس کی مجلس عاملہ سے نیشنل کانفرنس میں شمولیت پر صاد کروانا تھا۔یہ اجلاس پانچ دن تک جاری رہا اور اس میں موافق و مخالف خوب خوب ہی بحث ہوئی۔مسلم کانفرنس کے قائم رکھنے کے حق میں راہنماؤں کا کہنا یہ تھا کہ یہ کا نفرنس معنا آل انڈیا کانگرس کمیٹی کی کنیز ہوگی۔ہندوستان میں کانگرس مسلمانوں کے ساتھ جو سلوک کر رہی ہے۔وہ ہرگز ہم سے ڈھکا چھپا نہیں۔ہمیں اس سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔بُبت رام ہو گئے اول اول اس کی چودھری غلام عباس۔مرزا فضل بیگ اور بخشی غلام محمد نے بھی مخالف کی۔لیکن جب ان سے یہ کہا گیا کہ کشمیر نیشنل کانفرنس نہ آل انڈیا مسلم لیگ سے الحاق کرے گی نہ آل انڈیا کانگرس سے نہ وہ ان میں سے یا کسی اور بیرونی سیاسی جماعت کے تابع ہوگی۔تو یہ تینوں بُت بھی رام ہو گئے۔اور ورکنگ کمیٹی کے اس اجلاس نے کثرت رائے سے یہ قرارداد منظور کی:۔چونکہ مجلس عاملہ کی رائے میں وہ وقت آ گیا ہے کہ ملک کی تمام ترقی پسند جماعتیں ذمہ دارانہ حکومت کے حصول کے لیے ایک جھنڈے تلے جمع ہو کر جد و جہد کریں۔مجلس عاملہ۔260