کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 255 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 255

اس میں میری ذاتی کمزوری کو بھی دخل تھا۔گذشتہ آٹھ سال کی شدید اور مسلسل سیاسی کشمکش نے جس میں ہر قسم کی جسمانی روحانی مالی پریشانی اور بے اطمینانی شامل تھی۔میری سیاسی کمر ہمت کو اس قدر تو ڑ دیا تھا کہ میں تن تنہا اس وقت علیحدہ تنظیم کا حامل نہیں ہوسکتا تھا“ (عباس) مخلصانہ مشوره پنڈت پریم ناتھ بزاز کی یہ بات صد فی صد درست معلوم ہوتی ہے کہ انھوں نے شیخ محمد عبداللہ کے دل میں نیشنلزم کی تخم ریزی جولائی ۳۲ ء ہی میں کر دی تھی۔گواس بیج سے پھوٹنے والا پودا بیرونی دنیا کو ۳۵ء میں اس وقت نظر آیا۔جب دونوں نے مل کر سری نگر سے ہمدرد کے نام سے ایک مفت نامہ جاری کیا۔اس کے بعد ان دونوں صاحبوں کی تمام تر توجہ مسلم کانفرنس کے راہنماؤں کو مشرف بہ نیشنلزم کرنے ہی پر صرف ہونے لگی ( دی ہسٹری آف سٹرگل فار فریڈم ان کشمیر؛ مصنفہ بز از صفحه ۱۶۴)۔اور جب اس کے لیے فضا ایک حد تک سازگار محسوس کی تو ۲۶ مارچ ۳۸ء کے مسلم کانفرنس کے سالانہ اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے شیخ محمد عبداللہ نے اپنے صدارتی خطبہ میں نہ صرف مسلمانان کشمیر کو ریاست کے ہندوؤں اور سکھوں کے ساتھ مل کر متحد محاذ قائم کرنے کی تلقین کی بلکہ یہاں تک کہا کہ ہماری ہی طرح ی بھی مظلوم ہیں اور ایک غیر ذمہ دار حکومت کے تخیہ مشق ستم لہذا اب ہر ریاستی باشندے کو مسلم 259