کشمیر کی کہانی — Page 254
واضح کیا۔آپ کی مخلصانہ تشریح وتبلیغ موثر ثابت ہوئی۔اور حکام کے رویہ میں نمایاں تبدیلی واقع ہوگئی۔چونکہ مسلم کانفرنس کے بعض اکابر ان دنوں نیشنلزم کی راہوں پر گامزن ہونے کی تیاریوں میں تھے۔شاید اسی لیے انہوں نے اول اول اس مسئلہ کی اہمیت کو نہ سمجھا۔لیکن بالآخر جمہور مسلمانوں کے جذبات غالب آئے اور وہ بھی احتجاجی قرار دادیں پاس کرنے پر مجبور ہو گئے۔اس معاملہ میں اخبار اصلاح نے قابل قدر خدمات سرانجام دیں۔پے در پے معنی خیز اداریے لکھ کر گائے کی قربانی کا جواز ثابت کیا۔اُن دنوں ریاست کے قانون کی رو سے گائے کی قربانی کرنے والے کے لیے دس سال قید با مشقت کی سزا تھی۔لیکن اس ٹھوس صحافتی وکالت کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک مقدمہ میں کچھ مسلمان اسی جرم میں ماخوذ تھے۔ہائی کورٹ نے انہیں صرف پندرہ پندرہ دن کی سزا کا حکم سنا کر رہا کر دیا۔اس رہائی نے ہندوؤں کے متعصبانہ جذبات پر مہمیز کا کام کیا۔مظلوم مسلمانوں کی دیکھا دیکھی وہ بھی میدان مبارزت میں اتر کھڑے ہوئے۔سری نگر اور جموں میں سول نافرمانی شروع ہوئی۔عورتوں نے بھی گئو ماتا کی تقدیس کا علم اٹھاتے ہوئے اپنے آپ کو گر فتاری کے لیے پیش کیا۔لیکن جس کا کام اُسی کو سا ہے۔سیاسی اور مذہبی اجتماعوں کے نتائج و عواقب بھگتنے کے لیے تو آہنی عزم اور سنگین و مستحکم ہمت درکار ہوتی ہے۔جلد ہی تمام مردوزن معافیاں مانگ کر گھروں کو واپس آگئے اور یوں گئو ماتا کے نام پر شروع کی ہوئی ایجی ٹیشن اپنی موت آپ مرگئی۔258