کشمیر کی کہانی — Page 253
ہے۔آنحضرت اللہ کے خلاف فقرے تعليسة اس سال کے وسط میں مسلمانانِ کشمیر پر ایک اور عقوبت یہ نازل ہوئی کہ سری نگر کے ایک ہندو اخبار مارتنڈ نے گائے کی تقدیس و عظمت پر مضمون گھسیٹتے ہوئے حضرت سید ولد آدم (ع) کے وجود باجود پر بھی بعض توہین آمیز فقرے چست کر دئیے جس سے ساری ریاست میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی مدیر اصلاح“ نے اس کا اولین فرصت میں نوٹس لے کر اس کے خلاف ایک زبر دست اور موثر اداریہ سپرد قلم کیا جس سے متاثر ہوکر میر واعظ یوسف شاہ کی قیادت میں چالیس ہزار کے لگ بھگ مسلمانوں نے اجتماعی جلوس نکالا۔ہندور یاستی حکومت کا تعصب اس کو دیکھ کر پھر ہڑ بڑا اُٹھا۔جلوس پر لاٹھی چارج اور فائرنگ کی گئی جس سے پانچھو کے قریب افراد زخمی ہوئے۔میر واعظ یوسف شاہ کو گرفتار کر لیا گیا اور میر واعظ غلام نبی ہمدان کی زبان بندی کر دی گئی۔جونہی اس سانحہ کی اطلاع اور تفاصیل محسن کشمیر صاحبزادہ مرزا بشیر الدین صاحب کو پہنچیں آپ نے مجرومین کے لیے بذریعہ تار مالی امدادار سال کی مدیر اصلاح “ اور خواجہ غلام نبی گل کار نے ہر مجروح و مضروب کے پاس جا کر اُس سے امام جماعت احمدیہ کی طرف سے اظہار ہمدردی کیا۔اس کے بعد آپ نے ممتاز مبلغ اسلام مولا نا عبد الرحیم نیر کو جن کے ذریعہ انگلستان اور افریقہ میں ہزار ہا عیسائی مشرف بہ اسلام ہو چکے تھے۔(مولا نانیر ینگ میز ایسوسی ایشن جموں کے سالانہ جلسوں میں بھی تقریریں کر چکے تھے۔ظا)) ریاست کشمیر میں بھجوایا آپ نے ریاست کے وزراء اور حکام اعلیٰ سے ملاقاتیں کیں اور ہندو شاستروں کی رُو سے اُن پر گائے کی اصل حیثیت اور مسلمانوں کے دلوں میں حضرت نبی اکرم ( ع ) کا مقام واحترام 257