کشمیر کی کہانی — Page 211
متاثر ہو کر لکھا ہے اور اس میں جو باتیں لکھی گئی ہیں ان سے ثابت ہوتا ہے کہ مطالبہ عام مروجہ قواعد کی بنا پر نہیں ہے بلکہ اصل میں اس کا محرک یہ ہے کہ ایک احمدی کو آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا صدر نہیں ہونا چاہیے۔اگر سول کی یہ تحریر کشمیر کمیٹی کی اکثریت کے منشاء کے خلاف ہے۔تو میں اس مطالبہ کا حق رکھتا ہوں۔کہ اس کی تردید تحریر مذکورہ پر دستخط کرنے والے ممبروں کی طرف سے سول وغیرہ میں شائع کرائی جائے لیکن برخلاف اس کے اگر یہ امر ممبران کمیٹی کے اشارہ سے شائع کیا گیا ہے۔تو اس میں یقیناً اس سلسلہ کی ہتک ہے جس کا ایک فرد ہونے کو میں اپنے لیے موجب فخر سمجھتا ہوں اور میرے نزدیک ان خیالات کی موجودگی میں (جو اس اخباری اعلان کی تہ میں پائے جاتے ہیں ) نہ صرف میرا صدر رہنا بلکہ ممبر رہنا بھی جائز نہ ہوگا۔اور ان خیالات کے معلوم کر لینے کے بعد میں بھی اپنی ہتک خیال کروں گا کہ اس کمیٹی کا ممبر رہوں جو اس سلسلہ کے افراد سے تعاون کرنے کے لیے تیار نہ ہوں جس کا میں ممبر ہوں۔پس گو عام حالات میں۔میں تغیر عہدہ داران کو مفید سمجھتا ہوں بلکہ خود اس سوال کو ممبران کے سامنے کئی دفعہ پیش کر چکا ہوں۔اور اگر سول کا یہ نوٹ شائع نہ ہوتا تو باوجو د صدارت سے الگ ہو جانے کے میں ہر طرح سے آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی امداد کرتا اور اس کے لیے صدر اور سیکرٹری سے پورا تعاون کرتا لیکن اس اعلان کے بعد جو بظاہر حالات یقینا بعض دستخط کنندگان کے اشارہ سے لکھا گیا ہے۔کیونکہ اس پرائیویٹ تحریر کا سول اینڈ ملٹری گزٹ کے نامہ نگار کو کسی طرح علم نہیں ہوسکتا تھا۔اور اگر ہوتا بھی تو بہر حال وہ یہ وجہ اپنے پاس سے نہیں تراش سکتا تھا۔میں اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ کشمیر کمیٹی 215