کشمیر کی کہانی — Page 181
ایک جلسہ کا اعلان کیا گیا۔اس اعلان میں کہا گیا کہ میر واعظ صاحب نے صلح کے لیے جو شرائط پیش کی ہیں ان کا اسی جلسہ میں اعلان کیا جائے گا۔نصف لاکھ سے زائد لوگ جمع ہوگئے وہاں مولوی یوسف شاہ صاحب کی شرائط پیش کر کے لوگوں کو بتایا گیا کہ ہم کو اس وقت جو کچھ حاصل ہوا ہے اتفاق اور اتحاد کے نتیجہ ہی میں ہوا ہے۔اگر آج احمد یوں کو علیحدہ کرنے کا مطالبہ ہوسکتا ہے تو کل شیعوں کو علیحدہ کرنے کا سوال کیوں نہیں اُٹھایا جائے گا۔پھوٹ سے بچ گئے پھر ایک فاضل مقرر نے لوگوں سے مخاطب ہو کر پوچھا بھائیو! کیا آپ کو وہ وقت یاد ہے جب مولوی یوسف شاہ نے پہلے ہی دن انتخاب نمائندگان کے موقع پر خانقاہ معلی کے صحن میں یہ عہد کیا اور عہد لیا تھا کہ سب کلمہ گوسیاسی میدان میں متحد ہو جائیں اور عقائد اور فرقہ داری کے سوال کو ہمیشہ بالائے طاق رکھتے ہوئے تمام مشتر کہ معاملات میں ہم آہنگ رہیں (سب طرف سے آوازیں آئیں ہمیں خوب یاد ہے) پھر پوچھا کہ بھائیو! اب یہ بتاؤ کیا مولوی یوسف شاہ اپنے عہد پر قائم ہیں یا شیخ عبداللہ (سب طرف سے آوازیں آئیں شیخ محمد عبداللہ ) اس جلسہ کا کانفرنس کے حق میں اتنا اثر ہوا کہ سری نگر کی تقریباً سب پبلک شیخ محمد عبداللہ کی موید ہوگئی۔بلکہ جلسہ کے آخر پر آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے شکریہ کی ایک قرارداد بھی منظور ہوئی۔سید زین العابدین کی کشمیر میں آمد شیخ محمدعبداللہ کی درخواست پر صدر محترم آل انڈیا کشمیر کمیٹی نے اپنے نمائندہ سید زین العابدین کو جولائی ۳۲ء میں ہی کشمیر بھجوا دیا تھا۔محترم شاہ صاحب کشمیر کے ان دور دراز علاقوں میں بھی پہنچے جہاں وسائل رُسل و رسائل محدود یا مفقود تھے۔انہوں نے جن دشوار گذار راستوں پر سفر کیا اس کا حال سن کر انسان حیران و ششدر رہ جاتا ہے۔اگر یہ کہا جائے کہ شاہ 185