کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 180 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 180

قائم کی جائے۔سردار صاحب کی دعوت پر شیخ محمد عبد اللہ خود جموں تشریف لے گئے۔ان کے جموں پہنچتے ہی نمائندگان جموں کا اجلاس بلایا گیا۔شیخ محمد عبداللہ بھی شریک اجلاس ہوئے۔سردار گوہر رحمن ، چودھری غلام عباس ، ایم یعقوب علی ، شیخ غلام قادر سب نے اس اجلاس میں شرکت کی۔مخالف و موافق آراء سن لینے کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ آل کشمیر مسلم کانفرنس ہی کو کامیاب بنایا جائے۔اور صوبائی کا نفرنس ہی کو کامیاب کر دیا جائے۔وہاں سے آتے ہی انہوں نے نمائندگان کشمیر کا اجلاس کر کے تمام ارکان کو جموں والوں کے نقطہ نگاہ سے آگاہ کیا۔جموں کے ایک نمائندہ شیخ عبدالحمید ایڈووکیٹ سرینگر میں تھے۔وہ بھی اس اجلاس میں شریک ہوئے۔اور کانفرنس کو شاندار طریق پر کامیاب بنانے کی تیاریاں پوری سرگرمی سے شروع ہو گئیں۔پہلے ستمبر کے آخر میں کانفرنس کے انعقاد کا خیال تھا۔لیکن بعد میں ( ہر حصہ ریاست کے نمائندوں مشورہ کے بعد ) اسے اکتوبر تک ملتوی کر دیا گیا۔اختلاف دور کرنے کی کوشش کشمیر میں سب سے پہلی پولیٹکل کا نفرنس کو ہر لحاظ سے کامیاب کرنے کے لیے ضروری تھا کہ اُس وقت جو لوگ اختلافات کی وجہ سے علیحدہ ہو گئے تھے۔ان کو بھی ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے۔میر واعظ محمد یوسف شاہ اور شیخ محمد عبداللہ میں اختلافات کی خلیج وسیع ہوتی جارہی تھی۔پبلک نے ہر دو کو اختلافات مٹانے کی تلقین کی لیکن میر واعظ صاحب نے اپنی شرکت کے لیے یہ شرط عائد کردی کہ تحریک کی روح رواں ) احمدی حضرات کو سیاسی جماعت سے باہر رکھا جائے۔میر واعظ صاحب نے بڑا مشکل سوال اُٹھایا تھا۔جو کسی وقت بھی اس ساری تحریک کو ڈبو سکتا تھا۔لیکن شیخ محمد عبد اللہ کے حامیوں نے اپنی سیاسی فراست سے اس کا ایک ایساحل پیش کیا جو میر واعظ صاحب کے لیے بھی مصیبت کا باعث بن گیا یکم ستمبر ۳۲ ء کو پھر مسجد میں 184